noImage

بیخود بدایونی

1857 - 1912

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

عید ہے اور ہم کو عید نہیں

اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں

عاشقی بندگی نہ ہو جائے

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

آنسو مری آنکھوں میں ہیں نالے مرے لب پر

سودا مرے سر میں ہے تمنا مرے دل میں

بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں

کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

نہ مدارات ہماری نہ عدو سے نفرت

نہ وفا ہی تمہیں آئی نہ جفا ہی آئی

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے

میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا

دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں

بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے

ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں

اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا

وہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں

یہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے

شفا کیا ہو نہیں سکتی ہمیں لیکن نہیں ہوتی

دوا کیا کر نہیں سکتے ہیں ہم لیکن نہیں کرتے

وہ ان کا وصل میں یہ کہہ کے مسکرا دینا

طلوع صبح سے پہلے ہمیں جگا دینا

گردش بخت سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں

مری دل بستگیاں زلف گرہ گیر کے ساتھ

خون ہو جائیں خاک میں مل جائیں

حضرت دل سے کچھ بعید نہیں

شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا

ہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلا