noImage

بیخود بدایونی

1857 - 1912

نامور کلاسیکی شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے

نامور کلاسیکی شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے

662
Favorite

باعتبار

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

عید ہے اور ہم کو عید نہیں

ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں

اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا

اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں

عاشقی بندگی نہ ہو جائے

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں

کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

آنسو مری آنکھوں میں ہیں نالے مرے لب پر

سودا مرے سر میں ہے تمنا مرے دل میں

نہ مدارات ہماری نہ عدو سے نفرت

نہ وفا ہی تمہیں آئی نہ جفا ہی آئی

دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں

بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے

میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا

وہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں

یہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے

وہ ان کا وصل میں یہ کہہ کے مسکرا دینا

طلوع صبح سے پہلے ہمیں جگا دینا

شفا کیا ہو نہیں سکتی ہمیں لیکن نہیں ہوتی

دوا کیا کر نہیں سکتے ہیں ہم لیکن نہیں کرتے

گردش بخت سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں

مری دل بستگیاں زلف گرہ گیر کے ساتھ

شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا

ہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلا

خون ہو جائیں خاک میں مل جائیں

حضرت دل سے کچھ بعید نہیں