Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Chiragh Hasan Hasrat's Photo'

چراغ حسن حسرت

1904 - 1955 | لاہور, پاکستان

شاعر و صحافی ، اپنے مزاحیہ کالم کے لئے مشہور

شاعر و صحافی ، اپنے مزاحیہ کالم کے لئے مشہور

چراغ حسن حسرت کے اشعار

رات کی بات کا مذکور ہی کیا

چھوڑیئے رات گئی بات گئی

قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی

الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا

امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرتؔ

کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے

آؤ حسن یار کی باتیں کریں

زلف کی رخسار کی باتیں کریں

یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا

جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت

یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے

کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی

نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے