Faryad Aazar's Photo'

فریاد آزر

1956 - - | دلی, ہندوستان

314
Favorite

باعتبار

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی

اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے

اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے

اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا

قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے

میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر

وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید

ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

میں اپنی روح لیے در بہ در بھٹکتا رہا

بدن سے دور مکمل وجود تھا میرا

ہم ابتدا ہی میں پہنچے تھے انتہا کو کبھی

اب انتہا میں بھی ہیں ابتدا سے لپٹے ہوئے

میں جس میں رہ نہ سکا جی حضوریوں کے سبب

یہ آدمی ہے اسی کامیاب موسم کا