Hammad Niyazi's Photo'

حماد نیازی

1984 | لاہور, پاکستان

495
Favorite

باعتبار

وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں کٹی تھی عمر گاؤں میں

میں چوم چوم تھک گیا مگر یہ دل بھرا نہیں

صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے

جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی

میں اپنے باپ کے سینے سے پھول چنتا ہوں

سو جب بھی سانس تھمی باغ میں ٹہل آیا

آخری بار میں کب اس سے ملا یاد نہیں

بس یہی یاد ہے اک شام بہت بھاری تھی

بس ایک لمحہ ترے وصل کا میسر ہو

اور اس وصال کے لمحے کو دائمی کیا جائے

دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی

دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی

پیڑ اجڑتے جاتے ہیں

شاخوں کی نادانی سے

ہم اس خاطر تری تصویر کا حصہ نہیں تھے

ترے منظر میں آ جائے نہ ویرانی ہماری

بھروا دینا مرے کاسے کو

مرے کاسے کو بھروا دینا

آنکھ بینائی گنوا بیٹھی تو

تیری تصویر سے منظر نکلا

کچی قبروں پر سجی خوشبو کی بکھری لاش پر

خامشی نے اک نئے انداز میں تقریر کی

دکھائی دینے لگی تھی خوشبو

میں پھول آنکھوں پہ مل رہا تھا

روز میں اس کو جیت جاتا تھا

اور وہ روز خود کو ہارتی تھی

کب مجھے اس نے اختیار دیا

کب مجھے خود پہ اختیار آیا

پوچھتا پھرتا ہوں گلیوں میں کوئی ہے کوئی ہے

یہ وہ گلیاں ہیں جہاں لوگ تھے سرشاری تھی

ہار دیا ہے عجلت میں

خود کو کس آسانی سے

عمر کی اولیں اذانوں میں

چین تھا دل کے کار خانوں میں

سن قطار اندر قطار اشجار کی سرگوشیاں

اور کہانی پڑھ خزاں نے رات جو تحریر کی

ہم ایسے لوگ جو آئندہ و گزشتہ ہیں

ہمارے عہد کو موجود سے تہی کیا جائے