Idris Babar's Photo'

ادریس بابر

1973 | پاکستان

پاکستان کے نوجوان شاعر

پاکستان کے نوجوان شاعر

1.15K
Favorite

باعتبار

ٹینشن سے مرے گا نہ کرونے سے مرے گا

اک شخص ترے پاس نہ ہونے سے مرے گا

اب تو مشکل ہے کسی اور کا ہونا مرے دوست

تو مجھے ایسے ہوا جیسے کرونا مرے دوست

ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت

پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے

موت کی پہلی علامت صاحب

یہی احساس کا مر جانا ہے

آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا

شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ

تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو

اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!

اس قدر مت اداس ہو جیسے

یہ محبت کا آخری دن ہے

وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا

اور اک شور مچ گیا مجھ میں

موت اکتا چکی ریہرسل میں

روز دو چار شخص مرتے ہیں

میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر اے دوست

میں چاہتا ہوں کہ وہ خواب پھر بہم کئے جائیں

خودکشی بھی نہیں مرے بس میں

لوگ بس یوں ہی مجھ سے ڈرتے ہیں

ٹوٹ سکتا ہے چھلک سکتا ہے چھن سکتا ہے

اتنا سوچے تو کوئی جام اچھالے کیسے

میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے

شاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا

مر گیا خاص طور پر میں بھی

جس طرح عام لوگ مرتے ہیں

اک دیا دل کی روشنی کا سفیر

ہو میسر تو رات بھی دن ہے

کہانیوں نے مری عادتیں بگاڑی تھیں

میں صرف سچ کو ظفر یاب دیکھ سکتا تھا

دل کی اک ایک خرابی کا سبب جانتے ہیں

پھر بھی ممکن ہے کہ ہم تم سے مروت کر جائیں

وہی نہ ہو کہ یہ سب لوگ سانس لینے لگیں

امیر شہر کوئی اور خوف طاری کر

درد کا دل کا شام کا بزم کا مے کا جام کا

رنگ بدل بدل گیا ایک نظر کے ساتھ ساتھ

اس اندھیرے میں جب کوئی بھی نہ تھا

مجھ سے گم ہو گیا خدا مجھ میں

یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں

ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور

ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

وہ بہت دور ہے مگر مرے پاس

ایک ہی سمت کا کرایا ہے

اک خوف زدہ سا شخص گھر تک

پہنچا کئی راستوں میں بٹ کر

مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں

جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے

دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھ

ملتا جلتا تھا لبادہ میرا

ہاں اے غبار آشنا میں بھی تھا ہم سفر ترا

پی گئیں منزلیں تجھے کھا گئے راستے مجھے

کدھر گیا وہ کوزہ گر خبر نہیں

کوئی سراغ چاک سے نہیں ملا

وہی خواب ہے وہی باغ ہے وہی وقت ہے

مگر اس میں اس کے بغیر جی نہیں لگ رہا

یہ کرن کہیں مرے دل میں آگ لگا نہ دے

یہ معائنہ مجھے سرسری نہیں لگ رہا

کام کی بات پوچھتے کیا ہو

کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا یعنی

پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر

کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو

کوئی بھی دل میں ذرا جم کے خاک اڑاتا تو

ہزار گوہر نایاب دیکھ سکتا تھا

پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے

اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر