Iftikhar Naseem's Photo'

ہم جنس پرست پاکستانی شاعر جو امریکہ میں رہتے تھے

ہم جنس پرست پاکستانی شاعر جو امریکہ میں رہتے تھے

3.7K
Favorite

باعتبار

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں

کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں

مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے

کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو

ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے

زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

بہتی رہی ندی مرے گھر کے قریب سے

پانی کو دیکھنے کے لیے میں ترس گیا

نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے

وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا

غیر ہو کوئی تو اس سے کھل کے باتیں کیجئے

دوستوں کا دوستوں سے ہی گلہ اچھا نہیں

طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں

چل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں

خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے

جیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے

نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا

گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا

جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا

عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا

دیوار و در جھلستے رہے تیز دھوپ میں

بادل تمام شہر سے باہر برس گیا

یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا

پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا

کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں

جل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھ

کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میں

سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا

ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک

یہ تیر خود ہی چلا جائے گا نشانے تک

میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر

مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک

جی میں ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہرحال مجھے

جس کو مرنا ہے وہ چپ چاپ ہی مرتا جائے

تو تو ان کا بھی گلہ کرتا ہے جو تیرے نہ تھے

تو نے دیکھا ہی نہیں کچھ بھی تو پاگل ہے ابھی

فصل گل میں بھی دکھاتا ہے خزاں دیدہ درخت

ٹوٹ کر دینے پہ آئے تو گھٹا جیسا بھی ہے