رئیس رامپوری کے اشعار
تم نے ہنستے مجھے دیکھا ہے تمہیں کیا معلوم
کرنی پڑتی ہے ادا کتنی ہنسی کی قیمت
سب کے لیے سوال یہ کب ہے کہ کیا نہ ہو
ان کو تو مجھ سے ضد ہے کہ میرا کہا نہ ہو
چودھویں کا چاند پھولوں کی مہک ٹھنڈی ہوا
رات اس کافر ادا کی ایسی یاد آئی کہ بس
آج وحشت سے مری گھبرا گئے وہ بھی رئیسؔ
آج تو خود پر مجھے اتنی ہنسی آئی کہ بس
اب بھی کوہ طور پر گویا زبان حال سے
ہے کوئی اور اس کے جلوے کا تمنائی کہ بس