Rais Amrohvi's Photo'

رئیس امروہوی

1914 - 1988 | کراچی, پاکستان

996
Favorite

باعتبار

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ

یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم

آدمی کی تلاش میں ہے خدا

آدمی کو خدا نہیں ملتا

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں

پہلے یہ شکر کہ ہم حد ادب سے نہ بڑھے

اب یہ شکوہ کہ شرافت نے کہیں کا نہ رکھا

ابھی سے شکوۂ پست و بلند ہم سفرو

ابھی تو راہ بہت صاف ہے ابھی کیا ہے

کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

ٹہنی پہ خموش اک پرندہ

ماضی کے الٹ رہا ہے دفتر

اب دل کی یہ شکل ہو گئی ہے

جیسے کوئی چیز کھو گئی ہے

پہلے بھی خراب تھی یہ دنیا

اب اور خراب ہو گئی ہے

ہم اپنے حال پریشاں پہ بارہا روئے

اور اس کے بعد ہنسی ہم کو بارہا آئی

دل کئی روز سے دھڑکتا ہے

ہے کسی حادثے کی تیاری

صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے

صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم

صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی

نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے

دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ

یہ زمیں آسماں سے آتی ہے

چند بے نام و نشاں قبروں کا

میں عزا دار ہوں یا ہے مرا دل