noImage

رنگیں سعادت یار خاں

1756 - 1835 | لکھنؤ, ہندوستان

اردو شاعری کی صنف ’ریختی‘ کے لئے معروف

اردو شاعری کی صنف ’ریختی‘ کے لئے معروف

بادل آئے ہیں گھر گلال کے لال

کچھ کسی کا نہیں کسی کو خیال

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں

ناؤ کاغذ کی کہیں چلتی نہیں

جھوٹا کبھی نہ جھوٹا ہووے

جھوٹے کے آگے سچا رووے

وہ نہ آئے تو تو ہی چل رنگیںؔ

اس میں کیا تیری شان جاتی ہے

تا حشر رہے یہ داغ دل کا

یارب نہ بجھے چراغ دل کا

ہے یہ دنیا جائے عبرت خاک سے انسان کی

بن گئے کتنے سبو کتنے ہی پیمانے ہوئے

پا بوس یار کی ہمیں حسرت ہے اے نسیم

آہستہ آئیو تو ہمارے مزار پر

منع کرتے ہو عبث یارو آج

اس کے گھر جائیں گے پر جائیں گے ہم

تھا جہاں مے خانہ برپا اس جگہ مسجد بنی

ٹوٹ کر مسجد کو پھر دیکھا تو بت خانے ہوئے