Rauf Raza's Photo'

رؤف رضا

1956 - 2016 | دلی, ہندوستان

ممتاز مابعد جدید شاعر

ممتاز مابعد جدید شاعر

غزل 15

اشعار 2

یوں ہی ہنستے ہوئے چھوڑیں گے غزل کی محفل

ایک آنسو سے زیادہ کوئی رونے کا نہیں

  • شیئر کیجیے

وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی

اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ

 

کتاب 2

دستکیں میری

 

2007

دستکیں میری

 

1999

 

تصویری شاعری 2

قریب بھی تو نہیں ہو کہ آ کے سو جاؤ ستاروں جاؤ کہیں اور جا کے سو جاؤ تھکن ضروری نہیں رات بھی ضروری نہیں کوئی حسین بہانہ بنا کے سو جاؤ کہانیاں تھی وو راتیں کہانیاں تھے وو لوگ چراغ گل کرو اور بجھ_بجھا کے سو جاؤ طریق_کار بدلنے سے کچھ نیا ہوگا جو دور ہے اسے نزدیک لا کے سو جاؤ خسارے جتنے ہوئے ہیں وو جاگنے سے ہوئے سو ہر طرف سے صدا ہے کے جا کے سو جاؤ یہ کار_شعر بھی اک کار_خیر جیسا ہے کے طاق طاق جلو لو بڑھا کے سو جاؤ اداس رہنے کی عادت بہت بری ہے تمہیں لطیفے یاد کرو ہنس_ہنسا کے سو جاؤ

اسی بکھرے ہوئے لہجے پہ گزارے جاؤ ورنہ ممکن ہے کہ چپ رہنے سے مارے جاؤ ڈوبنا ہے تو چھلکتی ہوئی آنکھیں ڈھونڈھو یا کسی ڈوبتے دریا کے کنارے جاؤ وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ تم ہی کہتے تھے رضاؔ فرق_دوئی ختم کرو جاؤ اب اپنی ہی تصویر نہارے جاؤ

 

ویڈیو 17

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Isi bikhre huye lehje pe guzare jao

Rauf Raza: A prominent post-modern Urdu poet who was born in 1956 at Amroha U.P but later shifted to Delhi. Dastaken Meri" is his poetic collection that won him Delhi Urdu Academy Award. Rauf Raza reciting his ghazal at Rekhta Studio. رؤف رضا

رؤف رضا

Rauf Raza, poet from Delhi is reciting his ghazals at Rekhta Studio. رؤف رضا

رؤف رضا

رؤف رضا

اس کا خیال آتے ہی منظر بدل گیا

رؤف رضا

اسی بکھرے ہوئے لہجے پہ گزارے جاؤ

رؤف رضا

بہت خوبیاں ہیں ہوس_کار دل میں

رؤف رضا

تم بھی اس سوکھتے تالاب کا چہرہ دیکھو

رؤف رضا

جتنا پاتا ہوں گنوا دیتا ہوں

رؤف رضا

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے

رؤف رضا

روشنی ہونے لگی ہے مجھ میں

رؤف رضا

سب ہوت نہ ہوت سے نتھری ہوئی آسان غزل ہوں چھا کے سنو

رؤف رضا

ناشتے پر جسے آزاد کیا ہے میں نے

رؤف رضا

وہ تو نہیں ملا ہے سانسوں جئے تو کیا ہے

رؤف رضا

کوئی زخم کھلا تو سہنے لگے کوئی ٹیس اٹھی لہرانے لگے

رؤف رضا

ہر موسم میں خالی_پن کی مجبوری ہو جاؤ_گے

رؤف رضا

یہ مری روح سیہ رات میں نکلی ہے کہاں

رؤف رضا

آڈیو 12

اس کا خیال آتے ہی منظر بدل گیا

بہت خوبیاں ہیں ہوس_کار دل میں

تم بھی اس سوکھتے تالاب کا چہرہ دیکھو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • نشتر امروہوی نشتر امروہوی ہم عصر

"دلی" کے مزید شعرا

  • راشد جمال فاروقی راشد جمال فاروقی
  • نشتر امروہوی نشتر امروہوی
  • نیاز حیدر نیاز حیدر
  • عبیر ابوذری عبیر ابوذری
  • نظمی سکندری آبادی نظمی سکندری آبادی
  • میر شمس الدین فقیر میر شمس الدین فقیر
  • شہپر رسول شہپر رسول
  • ارشد کمال ارشد کمال
  • عبید صدیقی عبید صدیقی
  • سیدہ نفیس بانو شمع سیدہ نفیس بانو شمع