Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rauf Raza's Photo'

رؤف رضا

1956 - 2016 | دلی, انڈیا

ممتاز مابعد جدید شاعر

ممتاز مابعد جدید شاعر

رؤف رضا کے اشعار

311
Favorite

باعتبار

وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی

اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ

وہ جو اک شخص تمہیں یاد کیا کرتا تھا

آج مصروف بہت ہے اسے تم یاد کرو

یوں ہی ہنستے ہوئے چھوڑیں گے غزل کی محفل

ایک آنسو سے زیادہ کوئی رونے کا نہیں

ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے

کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے

شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے

کہاں گئے وہ شفیق لمحے

میں جن کو جی کر بڑا ہوا ہوں

اب اسی بات پہ حیران ہوا بیٹھا ہوں

کیوں کسی بات پہ حیران نہیں ہوتا میں

وہ شخص تھا ہی کچھ ایسا ہنساتا رہتا تھا

مجھے بھی سوگ کے عالم میں مسکرانا پڑا

رفتہ رفتہ لوگ عادی ہو گئے

رات کو دن کی طرح برتا گیا

ہائے وہ شخص جو مایوس مرے گھر سے گیا

اپنی تنہائیاں رکھنے کے لیے آیا تھا

کچھ نہیں اگلی ملاقات کی گھبراہٹ ہے

اس کے جانے سے پریشان نہیں ہوتا میں

قلم کی نوک پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم

ہوا چلے تو ہمارے لیے دعا کرنا

الجھن بنی ہوئی ہے زخموں کی تازہ کاری

ہر روز اک مسیحا بیمار ہو رہا ہے

وہ تو بچوں کی پتنگوں نے اسے گھیر لیا

ورنہ چپکے سے نکل جاتی بہار آئی ہوئی

ہمارے پاس تمہارے سوا نہ تھا کچھ بھی

ہزار چاہتیں رکھی ہوئی تھیں میلے میں

کس سے پوچھیں کہ ہمیں دشت میں کرنا کیا ہے

کیا کیا جاتا ہے بے وقت بہار آنے پر

کسی بھی حال میں اس سے جدا نہیں ہونا

بگاڑتا ہوں طبیعت اگر سنبھلتی ہے

میں شور ہوں تیری خامشی کا

تمام گھر میں مچا ہوا ہوں

جو دربدر ہیں وہی دربدر نہیں ہیں رضاؔ

مکان والے بھی خالی مکاں میں بیٹھے ہیں

بس یہ ہوتا ہے کہ سر تال بدل جاتی ہے

رقص روکا نہیں جاتا ہے بہار آنے پر

یہ حسن ذات بھی کچھ چیز ہے اگر سمجھو

وقار اور بڑھا ہے سفید بالوں سے

اس ملاقات کو زنجیر کی صورت کر دے

خود سے ملتا ہوں تو آپے میں نہیں رہتا ہوں

اتنی رنجش میں اکیلا نہیں ہو سکتا میں

آج کی رات بھی اپنا نہیں ہو سکتا میں

یہ پیڑ کون سی دنیا کی بات کرتے ہیں

ہمیں تو سایہ بھی اپنا خرید لانا پڑا

اس طرح لوگوں کے ایمان بگڑ جاتے ہیں

جس طرح اس نے مجھے صاحب ایمان کیا

اس درجہ خموشی کے گنہگار نہ ہوتے

اے کاش چھلک جاتی وہی آخری چائے

اس سفر میں مجھے پانی کی ضرورت نہ پڑے

جہاں آرام کروں تم مرے سینے میں ملو

میں روز و شب کا تصور بدلنا چاہتا ہوں

لگی ہوئی ہے مری خواب بننے والوں سے

روشنی دکھائی دے چاپ تو سنائی دے

اک کواڑ عادتاً رکھتا ہوں کھلا ہوا

میں جی اٹھا میں مر گیا میں پھر سے جی اٹھا

یہ ساری واردات ذرا دیر کی ہے بس

رضاؔ ہماری ان آنکھوں کے پاس کچھ بھی نہیں

بس ایک رات ہے جو بار بار ڈھلتی ہے

ہاتھ جوڑے ہوئے پھر سامنے فاقہ آیا

آج پھر آدمی ہونے سے مکرنا ہے مجھے

اب یہ پتھرائی ہوئی آنکھیں لیے پھرتے رہو

میں نے کب تم سے کہا تھا مجھے اتنا دیکھو

سارے ناکام تمنا مرے دل تک آ جائیں

آج وو کام کریں گے کہ جو ہونے کا نہیں

اسی میں سو رمز سوجھتے ہیں

جو بات کہنے سے رہ گئی ہے

مرے خیال میں وہ دلبری کی منزل تھی

تمہیں بھلانا پڑا اور تمہیں بتانا پڑا

اس نغمگی کا تھوڑا گنہگار میں بھی ہوں

مجھ سے بھی اس جہان میں ہلچل رہی ہے دوست

وہ بھی اب کون سا باقی ہے مری غزلوں میں

میں بھی اب دوسری دنیا میں کہیں رہتا ہوں

کیا بھول پڑ گئی ہے رستے سنبھالنے میں

خود کو بھی یاد رکھنا دشوار ہو رہا ہے

ہم کو ویسے بھی کوئی کام نہیں آتا ہے

اور یہ کام حقیقت کو فسانہ کرنا

میرے چہرے سے عیاں کچھ بھی نہیں

یہ کمی ہے تو کمی ہے مجھ میں

یقیں کے جوش میں اپنا قصیدہ لکھ ڈالا

میں خود شناسی کو سمجھا خدا شناسی ہے

میرے سینے سے نکالو مری بنیاد کی جان

اتنی آسانی سے ویران نہیں ہوتا میں

کاش آواز کو تصویر کیا جا سکتا

ایک ہی لے میں ہوئے جھیل کا پانی اور میں

تم کوئی اور نہ تصویر روانہ کرنا

میری پلکوں کی تو عادت ہے پرانا کرنا

ہم کو آداب تکلف بھی کہاں آتے ہیں

ہم تو پہلی ہی ملاقات میں کھل جائیں گے

مری آنکھوں میں آ جانا تو اک معمول ہے لیکن

محبت زور کرتی ہے تو وہ سانسوں میں آتا ہے

مزہ تو شام کی محفل کے انتظار میں ہے

سحر میں کچھ نہیں خواب سحر میں کچھ بھی نہیں

نہ جانے کتنے نصیبوں کے ساتھ ڈھلتی ہے

یہ شب جو میری ضرورت سے کم نکلتی ہے

خدا سے ملنے کی آرزو تھی وہ بندگی تھی

خدا کو محسوس کر رہا ہوں یہ شاعری ہے

Recitation

بولیے