غزل 16

نظم 1

 

اشعار 3

ہر دسمبر اسی وحشت میں گزارا کہ کہیں

پھر سے آنکھوں میں ترے خواب نہ آنے لگ جائیں

جو بھیک مانگتے ہوئے بچے کے پاس تھا

اس کاسۂ سوال نے سونے نہیں دیا

میں یہ بھی چاہتی ہوں ترا گھر بسا رہے

اور یہ بھی چاہتی ہوں کہ تو اپنے گھر نہ جائے

  • شیئر کیجیے
 

ویڈیو 6

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
تیری گلی کو چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں

ریحانہ روحی

جو صحیفوں میں لکھی ہے وہ قیامت ہو جائے

ریحانہ روحی

سفر میں رستہ بدلنے کے فن سے واقف ہے

ریحانہ روحی

میں نے تمہیں چلنا سکھایا تھا

ابھی جیسے یہ کل کی بات لگتی ہے ریحانہ روحی

کوئی جادو نہ فسانہ نہ فسوں ہے یوں ہے

ریحانہ روحی

یہ سوچ کر نہ پھر کبھی تجھ کو پکارا دوست

ریحانہ روحی

آڈیو 10

تیری گلی کو چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں

جو صحیفوں میں لکھی ہے وہ قیامت ہو جائے

دل کو رہ رہ کے یہ اندیشے ڈرانے لگ جائیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"کراچی" کے مزید شعرا

  • جون ایلیا جون ایلیا
  • ذیشان ساحل ذیشان ساحل
  • سجاد باقر رضوی سجاد باقر رضوی
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • جمال احسانی جمال احسانی
  • زہرا نگاہ زہرا نگاہ
  • جمیل الدین عالی جمیل الدین عالی
  • ادا جعفری ادا جعفری