Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rubina Ayaz's Photo'

روبینہ ایاز

لکھنؤ, انڈیا

معاصر اردو شاعری کی پسندیدہ آواز، اپنی مؤثر غزل گوئی، خوش آہنگ ترنم اور ملکی و بین الاقوامی مشاعروں میں فعال شرکت کے لیے معروف

معاصر اردو شاعری کی پسندیدہ آواز، اپنی مؤثر غزل گوئی، خوش آہنگ ترنم اور ملکی و بین الاقوامی مشاعروں میں فعال شرکت کے لیے معروف

روبینہ ایاز کے اشعار

28
Favorite

باعتبار

تیری یادیں اگر نہیں ہوتیں

اتنی سردی میں جم گئے ہوتے

جن کو معلوم نہیں کیا ہے تڑپنا دل کا

ان سے کہہ دو کہ بس اک بار محبت کر لیں

تجھ سے جدا نہ ہوں گے یہ سوچا تھا عمر بھر

یہ فیصلہ ترا تھا جو یہ فاصلہ ہوا

اس کی یادوں سے بھرے ہیں سبھی کمرے گھر کے

کسی سامان کو رکھنے کی جگہ ہے ہی نہیں

سرد موسم یہ ہوائیں یہ فضا اور یہ سڑک

کسی گمنام سی منزل کا پتہ دیتے ہیں

سفر طویل ہے اس کا خیال مت کرنا

کہ ہر قدم سے سفر مختصر بھی ہوتا ہے

اسی کا ذکر ہے ہر دم اسی کی بس طلب مجھ کو

خیال اس کا ہی اس کا ہے اسی کو عشق کہتے ہیں

ٹوٹ کے بکھروں یہی حق میں مرے بہتر ہے

راس آیا ہی نہیں مجھ کو ستارہ ہونا

ہمارا چاند سر بام آ رہا ہوگا

ہمیں تو عید اسے دیکھ کر منانی ہے

بہت سے چہرے نظر میں آ کر گزر چکے ہیں

تمہارے چہرے کا اس جہاں میں بدل نہیں ہے

آتشؔ کی آبرو ہوں میں غالبؔ کی شان ہوں

مجھ سے ادب سے ملیے میں اردو زبان ہوں

مرے خاموش اشکوں کو سنو خاموش رہنے دو

قیامت آ ہی جائے گی اگر یہ بول بیٹھیں گے

تیری یادوں کی تپش وہ ہے کہ جس کے آگے

میں ہتھیلی پہ بھی سورج کو رکھوں تو کم ہے

میں آج کسی اور کی پڑھتی ہوں کتابیں

کل اور کوئی مجھ کو کتابوں میں پڑھے گا

راتوں کی نیند ہم کو بھی پیاری تو تھی بہت

شوق سخن نے دیکھیے جگنو بنا دیا

محبت سیکھنی ہے تو ذرا تم موت سے سیکھو

یہ جب اپنا بناتی ہے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے

تھے مسیحا تو مسیحائی تمہیں کرنی تھی

تم نے جذبات کو مصلوب کیا ہے میرے

خواب کوئی آنکھوں میں دفن کر لیا میں نے

چلتی پھرتی سی تب سے اک مزار ہیں آنکھیں

Recitation

بولیے