روبینہ ایاز کے اشعار
تیری یادیں اگر نہیں ہوتیں
اتنی سردی میں جم گئے ہوتے
جن کو معلوم نہیں کیا ہے تڑپنا دل کا
ان سے کہہ دو کہ بس اک بار محبت کر لیں
تجھ سے جدا نہ ہوں گے یہ سوچا تھا عمر بھر
یہ فیصلہ ترا تھا جو یہ فاصلہ ہوا
اس کی یادوں سے بھرے ہیں سبھی کمرے گھر کے
کسی سامان کو رکھنے کی جگہ ہے ہی نہیں
سرد موسم یہ ہوائیں یہ فضا اور یہ سڑک
کسی گمنام سی منزل کا پتہ دیتے ہیں
سفر طویل ہے اس کا خیال مت کرنا
کہ ہر قدم سے سفر مختصر بھی ہوتا ہے
اسی کا ذکر ہے ہر دم اسی کی بس طلب مجھ کو
خیال اس کا ہی اس کا ہے اسی کو عشق کہتے ہیں
ٹوٹ کے بکھروں یہی حق میں مرے بہتر ہے
راس آیا ہی نہیں مجھ کو ستارہ ہونا
ہمارا چاند سر بام آ رہا ہوگا
ہمیں تو عید اسے دیکھ کر منانی ہے
بہت سے چہرے نظر میں آ کر گزر چکے ہیں
تمہارے چہرے کا اس جہاں میں بدل نہیں ہے
آتشؔ کی آبرو ہوں میں غالبؔ کی شان ہوں
مجھ سے ادب سے ملیے میں اردو زبان ہوں
مرے خاموش اشکوں کو سنو خاموش رہنے دو
قیامت آ ہی جائے گی اگر یہ بول بیٹھیں گے
تیری یادوں کی تپش وہ ہے کہ جس کے آگے
میں ہتھیلی پہ بھی سورج کو رکھوں تو کم ہے
میں آج کسی اور کی پڑھتی ہوں کتابیں
کل اور کوئی مجھ کو کتابوں میں پڑھے گا
راتوں کی نیند ہم کو بھی پیاری تو تھی بہت
شوق سخن نے دیکھیے جگنو بنا دیا
محبت سیکھنی ہے تو ذرا تم موت سے سیکھو
یہ جب اپنا بناتی ہے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
تھے مسیحا تو مسیحائی تمہیں کرنی تھی
تم نے جذبات کو مصلوب کیا ہے میرے