Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سالم عظیم کے اشعار

تراشتے ہیں جو پتھر کو سخت گرمی میں

پھر ان کا رزق بتاؤ حلال ہے کہ نہیں

تمہیں چاندنی ہو تمہیں ماہ پارہ

تمہیں سے تو روشن یہ سارا جہاں ہے

پھول سے رفاقت کی ایک آس پالی تھی

تار تار دامن ہے زندگی کے خاروں سے

زندگی کے ایسے نازک موڑ پر میں آ گیا

پاؤں میں ٹھوکر لگے یا نہ لگے گر جاؤں گا

جس پہ اترا کے روز چلتے ہو

اس کے نیچے تو پانی پانی ہے

وہم ہے یہ کہ مری حد میں اماں رہتے ہیں

مجھ میں سو فتنے بانداز بیاں رہتے ہیں

Recitation

بولیے