سالم عظیم کے اشعار
تراشتے ہیں جو پتھر کو سخت گرمی میں
پھر ان کا رزق بتاؤ حلال ہے کہ نہیں
تمہیں چاندنی ہو تمہیں ماہ پارہ
تمہیں سے تو روشن یہ سارا جہاں ہے
پھول سے رفاقت کی ایک آس پالی تھی
تار تار دامن ہے زندگی کے خاروں سے
زندگی کے ایسے نازک موڑ پر میں آ گیا
پاؤں میں ٹھوکر لگے یا نہ لگے گر جاؤں گا