Sohail Azeemabadi's Photo'

سہیل عظیم آبادی

1911 - 1979 | پٹنہ, انڈیا

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

سہیل عظیم آبادی

اشعار 19

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن

جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

  • شیئر کیجیے

تیری بے پردگی ہی حسن کا پردہ نکلی

کام کچھ کر گئی ہر حال میں غفلت میری

  • شیئر کیجیے

کوئی محفل سے اٹھ کر جا رہا ہے

سنبھل اے دل برا وقت آ رہا ہے

  • شیئر کیجیے

تمناؤں کی دنیا دل میں ہم آباد کرتے ہیں

غضب ہے اپنے ہاتھوں زندگی برباد کرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

کیا غم ہے جو ہم گمنام رہے تم تو نہ مگر بدنام ہوئے

اچھا ہے کہ میرے مرنے پر دنیا میں مرا ماتم نہ ہوا

  • شیئر کیجیے

افسانہ 11

کتاب 16

تصویری شاعری 1

 

"پٹنہ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے