Zehra Nigaah's Photo'

زہرا نگاہ

1936 | کراچی, پاکستان

پاکستان کی ممتاز ترین شاعرات میں نمایاں

پاکستان کی ممتاز ترین شاعرات میں نمایاں

15.5K
Favorite

باعتبار

اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے

کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں

تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے

چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھا

پر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال

ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے لئے

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی

دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی

دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے

اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں

اس شہر کو راس آئی ہم جیسوں کی گم نامی

ہم نام بتاتے تو یہ شہر بھی جل جاتا

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

ہم جو پہنچے تو رہ گزر ہی نہ تھی

تم جو آئے تو منزلیں لائے

تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت

اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا

دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے

تنہا نظر آتے ہیں غم یار کے ہوتے

کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے

کچھ کیا جائے چراغوں کو بجھایا جائے

جن باتوں کو سننا تک بار خاطر تھا

آج انہیں باتوں سے دل بہلائے ہوئے ہوں

بھولنا خود کو تو آساں ہے بھلا بیٹھا ہوں

وہ ستم گر جو نہ بھولے سے بھلایا جائے

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو

وہ نہ جانے کیا سمجھا ذکر موسموں کا تھا

میں نے جانے کیا سوچا بات رنگ و بو کی تھی

زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی

اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا

مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں

جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو

آج ایسا لگا یہیں کہیں ہو

دیوانوں کو اب وسعت صحرا نہیں درکار

وحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے

ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم

خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

ہم تجھے یاد کر کے پچھتائے

لو ڈوبتوں نے دیکھ لیا ناخدا کو آج

تقریب کچھ تو بہر ملاقات ہو گئی

دیکھو تو لگتا ہے جیسے دیکھا تھا

سوچو تو پھر نام نہیں یاد آتے ہیں

جو سن سکو تو یہ سب داستاں تمہاری ہے

ہزار بار جتایا مگر نہیں مانے

صلح جس سے رہی میری تا زندگی

اس کا سارے زمانے سے جھگڑا سا تھا

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں

دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھے

دیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں

غم اپنے ہی اشکوں کا خریدا ہوا ہے

دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو

اب بھی کچھ لوگ سناتے ہیں سنائے ہوئے شعر

باتیں اب بھی تری ذہنوں میں بسی لگتی ہیں

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے

کچھ لوگ بکھر کر بھی تماشا نہیں ہوتے

دیر تک روشنی رہی کل رات

میں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات

شب بھر کا ترا جاگنا اچھا نہیں زہراؔ

پھر دن کا کوئی کام بھی پورا نہیں ہوتا

شام ڈھلے آہٹ کی کرنیں پھوٹی تھیں

سورج ڈوب کے میرے گھر میں نکلا تھا

میں تو اپنے آپ کو اس دن بہت اچھی لگی

وہ جو تھک کر دیر سے آیا اسے کیسا لگا

وہ ساتھ نہ دیتا تو وہ داد نہ دیتا تو

یہ لکھنے لکھانے کا جو بھی ہے خلل جاتا

ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں

اس سفر میں ہم کس کو اپنا ہم سفر جانیں

اٹھو کہ جشن خزاں ہم منائیں جی بھر کے

بہار آئے گلستاں میں کب خدا جانے

تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں

اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا

اپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا

بہت دن بعد زہراؔ تو نے کچھ غزلیں تو لکھیں

نہ لکھنے کا کسی سے کیا کوئی وعدہ کیا تھا

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں

دل سے خیال تنگی داماں گیا نہیں

جینا ہے تو جی لیں گے بہر طور دوانے

کس بات کا غم ہے رسن و دار کے ہوتے

گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے

ہم پہ تقاضائے حرام دیکھیے کب تک رہے

روشنیاں اطراف میں زہراؔ روشن تھیں

آئینے میں عکس ہی تیرا مدھم تھا

ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں

دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں