Zehra Nigaah's Photo'

زہرا نگاہ

1936 | کراچی, پاکستان

پاکستان کی ممتاز ترین شاعرات میں نمایاں

پاکستان کی ممتاز ترین شاعرات میں نمایاں

1.64K
Favorite

باعتبار

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے

کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی

دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی

نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں

تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے

اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں

چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھا

پر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو

آج ایسا لگا یہیں کہیں ہو

اس شہر کو راس آئی ہم جیسوں کی گم نامی

ہم نام بتاتے تو یہ شہر بھی جل جاتا

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

ہم تجھے یاد کر کے پچھتائے

صلح جس سے رہی میری تا زندگی

اس کا سارے زمانے سے جھگڑا سا تھا

جو سن سکو تو یہ سب داستاں تمہاری ہے

ہزار بار جتایا مگر نہیں مانے

دیکھو تو لگتا ہے جیسے دیکھا تھا

سوچو تو پھر نام نہیں یاد آتے ہیں

غم اپنے ہی اشکوں کا خریدا ہوا ہے

دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال

ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے لئے

جن باتوں کو سننا تک بار خاطر تھا

آج انہیں باتوں سے دل بہلائے ہوئے ہوں

ہم جو پہنچے تو رہ گزر ہی نہ تھی

تم جو آئے تو منزلیں لائے

تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت

اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو

دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھے

دیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں

اب بھی کچھ لوگ سناتے ہیں سنائے ہوئے شعر

باتیں اب بھی تری ذہنوں میں بسی لگتی ہیں

وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے

کچھ لوگ بکھر کر بھی تماشا نہیں ہوتے

میں تو اپنے آپ کو اس دن بہت اچھی لگی

وہ جو تھک کر دیر سے آیا اسے کیسا لگا

شام ڈھلے آہٹ کی کرنیں پھوٹی تھیں

سورج ڈوب کے میرے گھر میں نکلا تھا

اٹھو کہ جشن خزاں ہم منائیں جی بھر کے

بہار آئے گلستاں میں کب خدا جانے

تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں

اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا

کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے

کچھ کیا جائے چراغوں کو بجھایا جائے

دیر تک روشنی رہی کل رات

میں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات

شب بھر کا ترا جاگنا اچھا نہیں زہراؔ

پھر دن کا کوئی کام بھی پورا نہیں ہوتا

بھولنا خود کو تو آساں ہے بھلا بیٹھا ہوں

وہ ستم گر جو نہ بھولے سے بھلایا جائے

دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے

تنہا نظر آتے ہیں غم یار کے ہوتے

ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں

اس سفر میں ہم کس کو اپنا ہم سفر جانیں

مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں

جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے

زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی

اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا

وہ ساتھ نہ دیتا تو وہ داد نہ دیتا تو

یہ لکھنے لکھانے کا جو بھی ہے خلل جاتا

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا

اپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا

ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم

خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا

بہت دن بعد زہراؔ تو نے کچھ غزلیں تو لکھیں

نہ لکھنے کا کسی سے کیا کوئی وعدہ کیا تھا

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں

دل سے خیال تنگی داماں گیا نہیں

جینا ہے تو جی لیں گے بہر طور دوانے

کس بات کا غم ہے رسن و دار کے ہوتے

ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں

دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں

دیوانوں کو اب وسعت صحرا نہیں درکار

وحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے

گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے

ہم پہ تقاضائے حرام دیکھیے کب تک رہے

روشنیاں اطراف میں زہراؔ روشن تھیں

آئینے میں عکس ہی تیرا مدھم تھا

لو ڈوبتوں نے دیکھ لیا ناخدا کو آج

تقریب کچھ تو بہر ملاقات ہو گئی

وہ نہ جانے کیا سمجھا ذکر موسموں کا تھا

میں نے جانے کیا سوچا بات رنگ و بو کی تھی