aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",DIY"
سراج اورنگ آبادی
1712 - 1764
شاعر
بیخود دہلوی
1863 - 1955
مظفر وارثی
1933 - 2011
جمیل الدین عالی
1925 - 2015
دل شاہجہاں پوری
1875 - 1959
دل ایوبی
born.1929
محمد دین تاثیر
1902 - 1958
شمس تبریزی
1185 - 1248
مصنف
معین نظامی
born.1965
فرید جاوید
1927 - 1977
دیپک شرما دیپ
born.1989
سلطان اورنگ زیب عالمیر
1618 - 1707
عبدالرزاق دل
born.1943
دل سکندرپوری
born.1993
دیا جیم
born.1973
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
شام ہی سے دکان دید ہے بندنہیں نقصان تک دکان میں کیا
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھاکشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
بچوں کے جذبات اور احساسات کو بیان کرنے والی شاعری
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
یوم جمہوریہ پر ٥ منتخب نظمیں
दीدِی
فارسی
گُزرا ہوا روز، آج سے پچھلا دن
dayday
دِن
diedie
दिलدِل
سینے کے اندر قدرے بائیں جانب، الٹے پان سے ملتی ہوئی شکل کا اک عضو جس کی حرکت پر خون کی گردش کا مدار ہے، یہ مرکب ہے گوشت و عصب و لیف اور غشاء سخت سے اور سرچشمہ ہے حرارتِ غریزی اور روح حیوانی کا، اسی کی حرکت کے بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے، قلب
دل دریا سمندر
واصف علی واصف
مضامین
سب رس
ملا وجہی
افسانوی ادب
مثنوی کدم راؤ پدم راؤ
فخر دین نظامی
مثنوی
عذاب دید
محسن نقوی
مجموعہ
دین کی باتیں
مولانا اشرف علی تھانوی
اسلامیات
قرابادین مجیدی
دفتر جامعہ طبیہ، دہلی
طب
داستان
مثنوی حضرت شمس تبریز
القرابا دین
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
قائم دین
علی اکبر ناطق
افسانہ
کتاب دل و دنیا
افتخار عارف
کلیات
سفینہ غم دل
قرۃالعین حیدر
ناول
غم دل وحشت دل
محمد حسن
سوانحی
امہ الانساب
رضوان الدین انصاری
Nov 2006تذکرہ
تمنائے دل
صلاح الدین سیفی
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیںتم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
سنا ہے ایک عمر ہےمعاملات دل کی بھی
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
پھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںتو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔکیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books