aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",sa77"
عبد الاحد ساز
1950 - 2020
شاعر
سددھارتھ ساز
born.1996
سدھارتھ سینی ساد
born.2000
ارشد سعد ردولوی
افتخار شاھد ابو سعد
born.1960
انیس ساز
جلیل ساز
محمود بیگ ساز
born.1922
صالح منیر
مصنف
ابو سعد اصلاحی
رادھا سوامی ست سنگ بیاس
ناشر
سیکس روہمر
محمد بن سعد کاتب الواقدی
سب رنگ کتاب گھر، دہلی
عتیق اللہ تلمیذ ساز برہانپوری
مدیر
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کیسنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
برہنہ ہیں سر بازار تو کیابھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گےیعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوستسب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
نئے سال کے موقے پر ہم آپکے ساتھ چنندہ نظمیں ساجھا کر رہے ہیں۔
کسی کو رخصت کرتے ہوئے ہم جن کیفیتوں سے گزرتے ہیں انہیں محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کا اظہار اور انہیں زبان دینا ایک مشکل امر ہے، صرف ایک تخلیقی اظہار ہی ان کیفیتوں کی لفظی تجسیم کا متحمل ہوسکتا ہے ۔ ’’الوداع‘‘ کے لفظ کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں وہ الوداعی کیفیات کے انہیں نامعلوم علاقوں کی سیر ہیں۔ آپ وداعی جذبات کو ان کے ذریعے بیان کر سکتے ہیں۔
سب افسانے میرے
ہاجرہ مسرور
افسانہ
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
سب رس
ملا وجہی
افسانوی ادب
اقبال سب کے لئے
فرمان فتح پوری
تنقید
حیات وارث
شیدا وارثی
چشتیہ
سپنا سا لگے
خدیجہ خان
غزل
تنہائی کے سو سال
ناول
آٹھ راتیں سات کہانیاں
نعیمہ جعفری پاشا
داستان
ساز حیات
آرزو لکھنوی
انتخاب
سب رس کا تنقیدی جائزہ
منظر اعظمی
غزل، قصیدہ اور رباعی
مغنی تبسم
نصاب
ابتدائی کلام اقبال
علامہ اقبال
ستارہ ساز
اختر عثمان
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
حادثوں کا حساب ہے اپناورنہ ہر آن سب کی باری ہے
باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاقتجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغازکبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔسب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیںپس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو
یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیںزباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books