aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",ujIZ"
کلیم عاجز
1926 - 2015
شاعر
عاجز کمال رانا
born.2000
عاجز ماتوی
born.1935
ادا جعفری
1924 - 2015
پیر شیر محمد عاجز
لئیق عاجز
عاجز ہنگن گھاٹی
1936 - 2008
عارف الدین عاجز
died.1763
عاجز میر پوری
مصنف
عزیز بانو داراب وفا
1926 - 2005
عمیق حنفی
1928 - 1988
مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی
1882 - 1935
خواجہ عزیز الحسن مجذوب
1884 - 1944
عزیز نبیل
born.1976
عزیز حامد مدنی
1922 - 1991
درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئےزندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھیمجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی
بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہےدیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو
نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاںملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغتم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
عاجزی زندگی گزارنے کی ایک صفت ہے جس میں آدمی اپنی ذات میں خود پسندی کا شکار نہیں ہوتا۔ شاعری میں عاجزی اپنی بیشتر شکلوں میں عاشق کی عاجزی ہے جس کا اظہار معشوق کے سامنے ہوتا ہے ۔ معشوق کے سامنے عاشق اپنی ذات کو مکمل طور پر فنا کردیتا اور یہی عاشق کے کردار کی بڑائی ہے ۔
'आजिज़عاجِز
عربی
خاکسار، مسکین، غریب
'अजीबعَجِیب
انوکھا، حیرت انگیز، طرفہ
अज़ीज़اَزِیز
ابلتے ہوئے پانی میں بلبلے اٹھنا
'अज़ीज़عَزِیز
زبردست، صاحب قوت و اختیار، غالب، قادر
کوچۂ جاناں جاناں
مجموعہ
پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا
وہ جو شاعری کا سبب ہوا
جب فصل بہاراں آئی تھی
مجلس ادب
دیگر
جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی
اک دیس اک بدیسی
سفر نامہ
مناقب ابرار
میاں عاجز شاہ
قصیدہ
جاوید عبدالعزیز
ترانۂ حبیب
شاعری
ہنستی شبنم روتے پھول
کرشمہ عشق
دیوان
نظام بیت المال
عبدالحمید عاجز
اسلامیات
گلشن اسرار
سید محمد انور علی عاجز کانپوری
مطبوعات منشی نول کشور
اسلم جاوداں
شاعری جیسی ہو عاجزؔ کی بھلی ہو کہ بریآدمی اچھا ہے لیکن بہت اچھا بھی نہیں
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤںچلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیںمحبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہوروز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سےلگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہےاب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے
تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہمیں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے
موت سے کھیل کے کرتے ہو محبت عاجزؔمجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ
ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں کا دہننگہ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books