aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHarosh"
خاموش غازی پوری
1932 - 1981
شاعر
بدر عالم خلش
born.1962
عبدالحفیظ خلش تسکینی
born.1935
خلش دہلوی
شفیق خلش
اقبال خلش
born.1950
خلش کلکتوی
1918 - 1994
شاہ خاموش صابری
مصنف
خلش بڑودوی
1924 - 1992
خلش رفاعی
1928 - 1978
خلش مظفر
رؤف خلش
1941 - 2020
یوسف خلش
خلش اکبرآبادی
خلش قادری
1935 - 2000
طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہووہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں
خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيم
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
خاموشی کو موضوع بنانے والے ان شعروں میں آپ خاموشی کا شور سنیں گے اور دیکھیں گے کہ الفاظ کے بے معنی ہوجانے کے بعد خاموشی کس طرح کلام کرتی ہے ۔ ہم نے خاموشی پر بہترین شاعری کا انتخاب کیا ہے اسے پڑھئے اور خاموشی کی زبان سے آگاہی حاصل کیجیے۔
خاموشی کو موضوع بنانے والے ان شعروں میں آپ خاموشی کا شور سنیں گے اور دیکھیں گے کہ الفاظ کے بے معنی ہوجانے کے بعد خاموشی کس طرح کلام کرتی ہے ۔ ہم نے خاموشی پر بہترین شاعری کا انتخاب کیا ہے اسے پڑھئے اور خاموشی کی زبان سے آگاہی حاصل کیجیے ۔
ख़ामोश خاموش
جو اپنی زبان نہ کھولے، چپکا چپ، ساکت و صامت
فارسی
ख़मोश خَموش
خاموش، چپ
ख़राश خَراش
رگڑ، چِھلَن
ख़रगोश خَرْگوش
خرگوش ، بڑے کان والا گپ جانور؛ ایک تیز رفتار جانور جو بِلی کے برابر ہوتا ہے اور جس کے کان گدھے کے کان سے مشابہ ہوتے ہیں اس کی غذا گھاس پات ہے
پیار و محبت کا جوش و خروش
مرزا نظیر بیگ
خواب و خروش
مظہر عارف
مجموعہ
سرود و خروش
جوش ملیح آبادی
خلش
اشعار
دیوان حضرت شاہ خاموش
چشتیہ
خاموشی لب کھول رہی ہے
اشہد کریم الفت
دیوان شاہ خاموش
دیوان
آتش خاموش
الیاس سیتا پوری
آتش خاموش
احسان دانش کاندھلوی
نظم
صالحہ عابد حسین
ناول
نا شکرا خرگوش
رابرٹ لاسن
آوازیں خاموشی کی
سالم شجاع انصاری
کچھوا اور خرگوش
اسماعیل میرٹھی
خروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تک
رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلےمیری درماندہ جوانی کی امنگوں کا خروش
ٹوٹتے بے خروش تاروں کیآخری کپکپی رباب میں ہے
اس گیت کے تمام محاسن ہیں لا زوالاس کا وفور اس کا خروش اس کا سوز و ساز
دیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سےفال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
فغاں ہے کس کے لیے دلوں میںخروش دریائے ذات کیا ہے
جس قدر بڑھتا گیا ظالم ہواؤں کا خروشاس کے کاکل اور بھی عارض پہ لہراتے رہے
دل فریبی ہے تری باعث صد جوش و خروشحال یہ ہو تو دل زار شکیبا کیا ہو
خروش نالہ تڑپتا ہے تیری فرقت میںسکوت آہ کو اب بھی تری ضرورت ہے
نعرہ زن جوشؔ کا خروش اس میںجوش کی ترجمان ہے اردو
اے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروش
طغیان گل شباب پہ بلبل خروش میںاک حشر سا ہے باغ میں برپا ترے لیے
سالہا سال کے بے چین شراروں کا خروشاک نئی زیست کا در باز کیا چاہتا ہے
اک طرف حاجت کی شدت اک طرف غیرت کا جوشنطق پر حرف تمنا دل میں غصے کا خروش
سیاہ رات میں دل کے مہیب سناٹےخروش نغمۂ شعلہ نوا سے کم نہ ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books