خاموشی پر ۲۰ بہترین اشعار

خاموشی کو موضوع بنانے والے ان شعروں میں آپ خاموشی کا شور سنیں گے اور دیکھیں گے کہ الفاظ کے بے معنی ہوجانے کے بعد خاموشی کس طرح کلام کرتی ہے ۔ ہم نے خاموشی پر بہترین شاعری کا انتخاب کیا ہے اسے پڑھئے اور خاموشی کی زبان سے آگاہی حاصل کیجیے ۔

اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا

تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں

فراق گورکھپوری

چٹخ کے ٹوٹ گئی ہے تو بن گئی آواز

جو میرے سینہ میں اک روز خامشی ہوئی تھی

سالم سلیم

چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق

تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند

داغؔ دہلوی

ایک دن میری خامشی نے مجھے

لفظ کی اوٹ سے اشارہ کیا

انجم سلیمی

ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی

اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

ہم نے اول تو کبھی اس کو پکارا ہی نہیں

اور پکارا تو پکارا بھی صداؤں کے بغیر

احمد عطا

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے

وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

احمد مشتاق

ہر طرف تھی خاموشی اور ایسی خاموشی

رات اپنے سائے سے ہم بھی ڈر کے روئے تھے

بھارت بھوشن پنت

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

the river's raging is advised by the tranquil sea

the greater power you possess, the quieter you be

the river's raging is advised by the tranquil sea

the greater power you possess, the quieter you be

ناطقؔ لکھنوی

خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے

اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا

محمد علی ساحل

خموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے

تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا

عابد خورشید

خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے

تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے

silence only intensifies one's grief

cry out heart and you will find relief

silence only intensifies one's grief

cry out heart and you will find relief

شاد عظیم آبادی

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں

ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

گلزار

مستقل بولتا ہی رہتا ہوں

کتنا خاموش ہوں میں اندر سے

جون ایلیا

نکالے گئے اس کے معنی ہزار

عجب چیز تھی اک مری خامشی

خلیل الرحمن اعظمی

رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے

ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں

ناظر وحید

رگوں میں زہر خاموشی اترنے سے ذرا پہلے

بہت تڑپی کوئی آواز مرنے سے ذرا پہلے

خوشبیر سنگھ شادؔ

سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں

مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا

فنا نظامی کانپوری

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی

خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی

امیر قزلباش

زور قسمت پہ چل نہیں سکتا

خامشی اختیار کرتا ہوں

عزیز حیدرآبادی

Added to your favorites

Removed from your favorites