aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bahii"
راجیندر منچندا بانی
1932 - 1981
شاعر
باقی صدیقی
1905 - 1972
امداد علی بحر
1810 - 1878
آسی الدنی
1893 - 1946
منظور ہاشمی
1935 - 2026
حضرت سلطان باہو
مصنف
باقی احمد پوری
born.1950
عابد مناوری
born.1938
بدیع الزماں خاور
1938 - 1990
میرا بائی
احمر ندیم
born.1998
نصیر الدین ہاشمی
1895 - 1964
راجہ گردھاری پرساد باقی
1829 - 1896
بیگم اختر
1914 - 1974
فن کار
عبدالباری عارف جمالی
انہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجراجسے ساحل نہیں ملتا
چڑھی مست بہی مست ڈلی مست رہی مستمکھا مست سدا مست صحن مست پری مست
ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گیمیں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتا
دن البیلے راتیں اس کی مستی کی سوداگردھرتی جیسے پھوٹ بہی ہو دودھ کی کچی گاگر
درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقیہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقی
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "محبوب سے باتیں کرنا" اصطلاح میں غزل شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں بحر، قافیہ اور ردیف کی رعایت کی گئی ہو۔اور غزل کا ہر شعر اپنی جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہا جاتا ہے۔
جدید اردو غزل کی طاقت ور ترین آوازوں میں شامل
امداد علی بحر کے 20 منتخب شعر
बही بَہی
وہ کتاب جس میں تجارت پیشہ لوگ اور مہاجن اپنا حساب لکھتے لکھاتے ہیں، کھاتہ لکھنے کی کتاب ،بہی کھاتہ، روز نامچہ
سنسکرت
बटी بَٹی
باغیچہ
अभी ابھی
فی الحال، سردست
बनी بَنی
بنا کی تانیث، دلھن، عروس
عربی, ہندی
عورت اسلام کی نظر میں
البہی الخولی
اسلامیات
تحریک اور دعوت
بدلي جي باهي
بہی کھاتہ کی جانچ
قاضی ابوالمعظم سید عبدالغفار
معاشیات
بہی کھاتے کے پنے
لچھمن بھاٹیا کومل
خودنوشت
گلدستہ بیت بازی
وسیم اقبال صدیقی
بیت بازی
علامہ اقبال کے اشعار
علامہ اقبال
اشعار
بحر الفصاحت
نجم الغنی خان نجمی رامپوری
زبان
شجاع الدین فاروقی
اگر اب بھی نہ جاگے تو
شمس نوید عثمانی
ترجمہ
آپ مسافر آپ ہی منزل
مومن اقبال عثمان
بحر المعانی
محمد بن نصرالدین جعفر مکی حسینی
خط
آزاد نظم اردو شاعری میں
کنول کرشن بالی
نظم تنقید
جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھییہ موج تو تہ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی
میں سوز دروں اپنا دکھا بھی نہیں سکتاکیا مجھ پہ گزرتی ہے بتا بھی نہیں سکتا
یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوںیہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں
عمر بھر قرض چکایا اس کازیست بننے کی بہی ہو جیسے
کیا مدرسے میں دہر کے الٹی ہوا بہیواعظ نہی کو امر کہے امر کو نہی
ایسی ہوا بہی کہ ہے چاروں طرف فسادجز سایۂ خدا کہیں دارالاماں نہیں
کوچہ کوچہ سے اٹھے گی غم زدوں کی ایک لہرقریہ قریہ سے بہی خواہوں کا لشکر آئے گا
خزاں میں ڈھونڈتے ہو خوشبوئیں تمکبھی کھلتی ہے شب میں بھی کلی کیا
دھارے دھارے بہی جاتی ہوںاور بھید نہیں پاتی ہوں
لے کے دل چین سے جا بیٹھے وہ گھر میں چھپ کےاب تو آنکھیں بھی ترسنے لگیں نظاروں کو
میں جو حالات کے دھارے میں بہی جاتی ہوںمجھ کو لہروں کا طرف دار نہ جانے کوئی
فنا کے گھاٹ تک غم کی ستم رانی نہیں جاتیبہی جاتی ہیں آنکھیں اشک افشانی نہیں جاتی
بستیاں راز کی اشکوں میں بہی جاتی ہیںموجزن غم کا سمندر کبھی ایسا تو نہ تھا
گرمیٔ شوق سے پگھلی ترے دیدار کی لوتیز ہو کر مری آنکھوں سے بہی جاتی ہے
میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوںکھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books