aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-abr"
عمر دراز بیگ
مدیر
مرزا عبد الباقی بیگ
مصنف
آئی بی یہودا
ابرؔ بیکار لوگ پوچھتے ہیںآپ بھی کیا کسی سے لڑتے ہیں
اے ابرؔ میرا توڑ دیا رشتۂ حیاتہو کر شکست وعدۂ بے اعتبار نے
مجھ کو کمال بے ہنری ابرؔ ہے بہتیعنی نہیں ضرورت عرض ہنر مجھے
بے ابر رند پیتے نہیں واعظو شرابکرتے ہیں یہ گناہ بھی رحمت کے زور پر
ترے جہاں میں ہوں بے سایہ ابر کی صورتمرے نصیب میں بے ابر بارشیں لکھنا
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
دوستی کا جذبہ ایک بہت پاک اور شفاف جذبہ ہے ۔ اس سے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو جاننے ، سمجھنے اور ایک دوسرے کیلئے جینے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ شاعروں نے اس اہم انسانی جذبے اور رشتے کو بہت پھیلاؤ کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ دوستی پر کی جانے والی اس شاعری کے اور بھی کئی ڈائمینشن ہیں ۔ دوستی کب اور کن صورتوں میں دشمنی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ؟ ہم سب اگرچہ اپنی عام زندگی میں ان حالتوں سے گزرتے ہیں لیکن شعوری طور پر نہ انہیں جان پاتے ہیں اور نہ سمجھ پاتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور ان انجانی صورتوں سے واقفیت حاصل کیجئے ۔
نصرت فتح علی خان نے بےشمار قوالیاں اورغزلیں گا ئی ہیں، اور غزل گائیکی ہو یا قوالی دونوں میں اپنی آواز اور ہنر سے لوگوں کا دل جیتا ہے۔ اس انتخاب میں کچھ ایسی غزلیں پیش کی جا رہی ہیں جنہیں نصرت صاحب کی آواز نے زندہ کر دیا ہے۔ پڑھئے اور سر دھنیے ۔
अब केاَب کے
پھر ، مکرر ، اگلی دفعہ ؛ سال آئندہ .
अब सेاَب سے
henceforth, from now on, in future
अबेاَبے
سنسکرت
بے تکلفی سے مخاطب کرنے کا کلمہ، ارے ، او
अब कर केاَب کر کے
حال میں ، اس زمانے میں .
بے آبرو
قیسی رام پوری
رومانی
بہت بے آبرو ہوکر
عبدالمجیب سہالوی
بے آب زمینیں
سید اقبال حیدر
شاعری
اور تمنا بے تاب
زہرا رضویہ
ڈاکٹر ابن فرید بے بدل انسان۔ بے مثل قلم کار
انتظار نعیم
الطاف الرحمن بتفسیر القرآن
محمد الطاف الرحمٰن قدوائی
بےسر کی فوج
ابن سعید
التوسل بسید الرسل
مولوی مشتاق احمد حنفی
حیات بیدل اور دیگر مضامین
ڈاکٹر امانت
بے نام سمندر کا سفر
شکیل الرحمن
بے ساختہ اور بے ضابطہ
وجاہت علی سندیلوی
Sketch Writing
بے گناہ مجرم
شفیق الرحمن قدوائی
بے ساختہ
ابن مفتی
عظمت شاد بحیثیت شاعر
ابو منور گیلانی
حکمراں سے راج پرمکھ اور بے روزگاری کا حل
محمد علاء الدین جمال
ہندوستانی تاریخ
پھر بے نمو زمین تھی اور خشک تھے شجربے ابر آسماں کا چلن کامیاب تھا
میرا اجڑا ہوا چہرہ مری پتھر آنکھیںقحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر فلک
دشت بے آب کی طرح گزریزندگی خواب کی طرح گزری
بحر بے آب کے علاوہ بھیوہ ملے خواب کے علاوہ بھی
شہر بے آب ہوا جاتا ہےاپنی آنکھوں میں بچا لوں پانی
عشق میں بے آبرو ہونا پڑادو ہی دن میں تم سے تو ہونا پڑا
بے آب و گیاہ بانجھ دھرتیمجھ سے یہ سوال کر رہی ہے
جو ترے خطۂ بے آب کی خواہش نہ بناکلبلاتا ہے وہ دریا کسی کہسار میں گم
بے آبرو نہ تھی کوئی لغزش مری قتیلؔمیں جب گرا جہاں بھی گرا ہوش میں گرا
بے آب موسموں کا سامان کر کے رویایہ دل کہ آنکھ کو بھی ویران کر کے رویا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books