aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bye"
چلو اب الوداع کہتے ہیں تم کوعمل یہ ہے اگرچہ جاں_گزیدہ
تو جو بچھڑا تو کہہ دوں_گا میں پیار سےالوداع اب تجھے اے مری زندگی
آب_دیدہ ہو کے وہ آپس میں کہنا الوداعاس کی کم میری سوا آواز بھرائی ہوئی
ملکہ آفاق زمانی بیگم
died.1983
مصنف
محمد بینظیر شاہ
1863 - 1932
شاعر
ح۔ب
طیبہ بی
مدیر
انور بیدل
بی امیر جان
ب ن آنسہ ابراہیم
و۔ ب۔ سدید
مہاتما بے انت آنند
ناشر
ف ص ب بنت خواجہ احمد حسن
میسرز بی جین پرائیوٹ لمیٹڈ، نئی دہلی
بیباک پبلشنگ ہاؤس، مالیگاؤں
نام اس کا فاطمہ تھا ،پر سب اسے پھاتو کہتے تھے، بانہال کے درّے کے اس طرف اس کے باپ کی پن چکی تھی جو بڑا سادہ لوح معمر آدمی تھا۔...
نہ بایو ہی سمجھوں نہ ہندی ہی آئےجو مرضی چلے تو کروں سب کو بائے
دیواروں پر نئے کلنڈر نئے مناظر ہوں گےدوڑی دوڑی آئی جنوری بائے دسمبر بابا
کھائے گی اسے’’می گو بائی‘’ Me Go. Bye. کہہ کر چل پڑی۔...
ڈیوڈ نے گہری نظروں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیا اور ایک دم کارلا کو گود میں اٹھا کر بولا۔...
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
کچھ اچھی اور معتبر خواتین کی خود نوشتوں کی ایک منتخب فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے
sye sye
چَھلْنی
aye aye
ہَمیشَہ
ye ye
آپ لوگ
ये یِہ
(کلمۂ اشارہ، قریب کے لیے) اس، سامنے کا، حاضر، موجودہ، جیسے : یہ مرد، یہ عورت، یہ کتاب وغیرہ
محبت کی نظمیں اور بے بسی کا گیت
پابلو نیرودا
شاعری
بے آواز گلی کوچوں میں
احمد فراز
بیخواب ساعتیں
معراج فیض آبادی
شمشیر بے نیام
عنایت اللہ التمش
تاریخی
سلک گوہر
انشا اللہ خاں انشا
داستان
بے نام گلیاں اوردوسری کہانیاں
کلام حیدری
افسانہ
طمانچہ برخسار یزید
خواجہ حسن نظامی
بے ساختہ
اکبر معصوم
مجموعہ
بے زبانی زباں نہ ہو جائے
فران سید
خود نوشت
بے آواز گلی کوچوں میں
دیوان نیاز بے نیاز
دیوان
بے وطن
اشرف شاد
ناول
بے جان چیزیں
راجندر سنگھ بیدی
ڈرامہ
بے زبان ساتھی
وکیل نجیب
بے یقین بستیوں میں
علی اکبر ناطق
حال مرا نہ پوچھئے چال مری نہ دیکھیےبس اتنا مجھ سے پوچھئے کرتا ہوں بائے بائے کیوں
بجے جو دس تو ہمیں بائے بول دیتے ہوہمیں سے بات لگاتار کیوں نہیں کرتے
بےنظیر نے کہا تمہارا نام تو بہت اچھا ہے اور تمہارا بھی۔ بدر منیر نے کہا۔ عندلیب معصومیت اور سادگی کا بت بنی ان کی گفتگو سن رہی تھی تب تک دوسرے کلاس میٹز انھیں تلاش کرتے ہوئے آ گئے پھر وہ bye کہہ کر چلا گیا۔...
ارمان چلتی بس سے نیچے اترا۔ مونا نے سلام کے بعد اپنے خوبصورت اور نازک ترین ہاتھ سے الوداعیہ اشارہ (Bye) کیا، جو ارمان کو بہت اچھا لگا اور کافی وقت تک اس کے حواس پر گھڑی کے پنڈولم کی طرح ہلتا رہا۔...
صبح سویرے ہی مل پائےدیر ہوئی تو بائے بائے
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
میری ہر بات بے اثر ہی رہینقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
کر رہا تھا غم جہاں کا حسابآج تم یاد بے حساب آئے
نہ اتنی بے تکلفیکہ آئنہ حیا کرے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books