aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "iltibaas"
اعتبار ساجد
1948 - 2026
شاعر
اجتبیٰ رضوی
1908 - 1991
عاجز کمال رانا
born.2000
الیاس بابر اعوان
born.1976
الیاس احمد گدی
born.1934
مصنف
الیاس جان ولکنسن جب
الیاس راحت
1964 - 2018
الیاس چشتی
born.1989
محمد الیاس برنی
1890 - 1958
صلاح الدین محمد الیاس برنی
احمد الیاس
علی بن العباس المجوسی
930 - 994
الیاس نعمانی
دارالطبع فنون
ناشر
الیاس موڈرن پریس، ایجپٹ
تو کہیں آس پاس تھا وہ ترا التباس تھامیں اسے دیکھتا رہا پھر مجھے نیند آ گئی
وہ خواب کو بھی حقیقت سمجھ کے جیتے ہیںاسی میں خوش ہیں تو یہ التباس رہنے دو
دل و دماغ پہ جب اختیار تھا اس کاکسی حوالے سے پھر التباس کیا کرتے
دل میں ابلیس ہو تو دانش پرجہل کا التباس ہوتا ہے
التباس آپ کو جب سے ہے وفاؤں پہ مریدل غریق غم و حرماں ہے خدا خیر کرے
اعتبار شاعری
التجا کا تناظر محبوب سے وصال، اس سے ملاقات یا اس کی ایک جھلک پا لینے کی خواہش سے جڑا ہے ۔ شاعری میں موجود عاشق ہرلمحہ یہی التجا اور فریاد کرتا رہتا ہے لیکن وہ بتِ کافر سنے ہی کیوں ۔ شاعری کا یہ حصہ ایک عاشق کی آرزومندی کی لطیف ترین کیفیتوں کا دلچسپ اظہار ہے ۔
इल्तिबासاِلْتِباس
عربی
ایک چیز پر دوسری کا شبہ یا دوسرہ کا شبہ یا دھوکا، ہمشکل ہونا
इल्तिबासीاِلْتِباسی
فارسی
التباس (رک) سے منسوب : مشتبہ ، دھوکے میں ڈالنے والا.
इल्तिमासاِلْتِماس
درخواست، گزارش، عرض
इक़्तिबासاِقْتِباس
(مادی، روحانی یا معنوی) تحصیل، اخذ، استفادہ
کشف الالتباس
سید ابوالفضل
عجائب القصص
آفتاب شاہ عالم ثانی
داستان
کنز الاطباء
حکیم محمد عبداللہ
تذکرہ اطباء عصر
سید ظل الرحمٰن
طب
ذکر العباس
سید نجم الحسن
اسلامیات
ملفوظات حضرت مولانا محمد الیاس
محمد منظور نعمانی
رموز الاطباء
محمد فیروز الدین
طب یونانی
آدمی
افسانہ
تاریخ طب و اطباء دور مغلیہ
الطاف احمد اعظمی
خزینۃ الاطباء
علم الدین بھاگوالیہ
شمارہ نمبر۔003
صابر ملتانی
Mar 1933تبصرۃ الاطباٰء
تاریخ طب و اطباء قدیم
سید علی حیدر
دستور الاطباء
حکیم محمد حسن قرشی
سیکھنے کے وسائل/ قواعد
رموزالاطباء
عیون الانبا فی طبقات الاطبا
ابن ابی اصیبعہ
اڑ رہی ہے التباس میںاور وہ خامشی تھی جو مہان آتما کا رمز تھی
حنا کا رنگ لہو سا لباس یا اللہعجیب وہم عجب التباس یا اللہ
شہرت نظر میں ہو تو بلاغت سے کیا غرضسرقے کا غم نہیں تو غم التباس کیا
رگوں میں اب بھی قبیلے کا خون سرکش ہےمگر وہ وصف کہاں صرف التباس ہوں آج
وہ بس اک التباس وقت تھااب تو مرے پانی میں گدلاہٹ ہے
اور تقریباً نا قابل سماعت شاعری کی دیوی کیآواز کا التباس
ہمیں کس نے دھکیلا اس طرفان نور برساتی ہوئی نیلی فضاؤں سے
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگیمیں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کوتجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books