aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khaare"
ویریندر کھرے اکیلا
born.1968
شاعر
چترانش کھرے
born.1989
خار دہلوی
1916 - 2002
اتکرش مسافر
born.1990
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
مصنف
پریم شنکر کھرے
کھرے پریس، بھوپال
ناشر
پرائم ہیلتھ کیر اکاڈمی
حکیم بہاری لال خار
مدیر
خاضع الہ آبادی
عبدالرحیم خان خاناں میموریل سوسائٹی، نئی دہلی
Khaakee
بیرم خان خان خانان
نعمانی کیئر فاؤنڈیشن، لکھنو
اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن، دہلی
تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کےکرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئےوہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا
پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگیپھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے
ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خار راہ غیرکیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم
پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
ہنرمندی انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے ۔ ہر شخص اپنے اندر کچھ صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے جن کو پہچان کر وہ ایک بڑے ہنر میں تبدیل کر لیتا ہے اور یہی ہنر اس کی شخصیت کی پہچان بنتا ہے ۔ ہنر کے عنوان سے ہم جو اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں وہ زندگی میں نئے حوصلوں سے بھرتے ہیں اور نئی منزلوں پر گامزن کرتے ہیں ۔
وعدہ اگر وفا ہوجائے تو پھر وہ وعدہ ہی کہاں ۔ معشوق ہمیشہ وعدہ خلاف ہوتا ہے ، دھوکے باز ہوتا ہے ۔ وہ عاشق سے وعدہ کرتا ہے لیکن وفا نہیں کرتا ۔ یہ وعدے ہی عاشق کے جینے کا بہانہ ہوتے ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب میں وعدہ کرنے اور اسے توڑنے کی دلچسپ صورتوں سے آپ گزریں گے ۔
صحت کی حفاظت
खारे کھارے
کھارا (رک) کی جمع نیز مغیّرہ حالت ، تراکیب میں مستعمل.
खरे کھرے
ہندی
اصل ، خالص ، بے میل، جن کے شجرۂ نسب میں کوئی کھوٹ نہ ہو ، تراکیب میں مستعمل.
चाहे چاہے
چاہو (دو متبادل کے موازنہ و انتخاب کے موقع پر)
ख़ाले' خالع
عربی
خلع حاصل کرنے والا مرد یا عورت، وہ مرد یا عورت جو کچھ دے کر طلاق حاصل کرے
کھارے پانیوں کا سلسلہ
انور جلال پوری
مجموعہ
رالی
ناول
خار ہزار دشت
حرفی
خارغم
گوری پرشاد
تماشہ خار حسرت
ایم۔اے۔جی۔احسن
صحت
کھرے کھوٹے
اظہار خضر
اردو کے بہترین شخصی خاکے
مبین مرزا
خاکے/ قلمی چہرے
کار جہاں دراز ہے
قرۃالعین حیدر
سوانحی
خیر کثیر
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اسلامیات
آنگن میں ستارے
اسلم فرخی
اردو کے منتخب خاکے
یوسف ناظم
دمشق کے قید خانے میں
عنایت اللہ التمش
ادبستان
نیر مسعود
تیس سال بعد
رضا علی عابدی
تبصرہ
خار خار الم حسرت دیدار تو ہےشوق گلچین گلستان تسلی نہ سہی
تو برگ گیاہے نہ دہی اہل خرد رااو کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند
تو نے رندوں کا حق مارا مے خانے میں رات گئےشیخ کھرے سید ہیں ہم تو ہم نے سنایا شاد ہوئے
نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہےکہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھےشاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے
ہم دل کے کھرے باتوں کے دھنیمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
اگر دم بھر بھی مٹ جاتی خلش خار تمنا کیدل حسرت طلب کو اپنی ہستی سے گلا ہوتا
ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔسیراب چند خار مغیلاں ہوئے تو ہیں
خار حسرت بیان سے نکلادل کا کانٹا زبان سے نکلا
رکھ نہ آنسو سے وصل کی امیدکھارے پانی سے دال گلتی نہیں
کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرےاے اندھیری بستیو تم کو خدا روشن کرے
بستر مرا ہے خار مغیلاں بسان قیسلیلیٰ کی ہے تجھے صف مژگان کی قسم
لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
ہیں عقدہ کشا یہ خار صحراکم کر گلۂ برہنہ پائی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books