aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kirchii"
ساحر لکھنوی
1935 - 2019
شاعر
احمد عظیم
کرتی رتن سنگھ
سٹی پریس بک شاپ، کراچی
ناشر
اردو لغت بورڈ، کراچی
فضلی سنز پرائیوٹ لمٹیڈ، کراچی
آج کی کتابیں، کراچی
حکیم محمد حسن قرشی
1896 - 1974
مصنف
ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ، کراچی
نفیس اکیڈمی، کراچی
بیدل لائبریری، کراچی
عطیہ کار
اکیڈمی بازیافت، کراچی
ادارہ معارف اسلامی، کراچی
حکیم ریاض احمد قرشی
مدیر
محمد صادق قرشی عثمانی
کرچی کرچی خواہشیں آنکھوں میں چبھ کر رہ گئیںزرد موسم آس کی ہریالیوں کو کھا گئے
ہاتھ سے اک دعا گر کے کرچی ہوئیاب مری بد دعا کا اثر دیکھنا
جو کرچی کرچی بکھر گئے ہیںبکھرنے والوں کو اپنے مرکز کی آرزو ہے
کرچی کرچی سپنے سارےدل میں اک ارمان پڑا ہے
کبھی چاہا خود کو سمیٹنا تو بکھر کے اور بھی رہ گیاہیں جو کرچی کرچی پڑے ہوئے مرے سامنے مرے خواب ہیں
किरची کِرچی
ایک قسم کا ملایم ریشم، جو بنگال میں ہوتا ہے
ہندی
खिंची کِھنچی
کِھنچا کی تانیث، ترا کیب میں مستعمل
किर्चा کِرْچا
رک : کرچ ، ٹکڑا .
तिरछी تِرْچھی
ترچھا کی تانیث
کرچی کرچی خواب
محمد انیس فاروقی
012
علاءالدین خالد
Jan 1952اردو سائیکولوجی
جامع الحکمت
فارسی کہانیاں-1
افسانہ / کہانی
خاص نمبر: جون: شمارہ نمبر-006
مسعود احمد برکاتی
Jun 2012ہمدرد نونہال، کراچی
جنسی امراض کا علاج
شمارہ نمبر۔077
اجمل کمال
آج، کراچی
گابریئل گارسیا مارکیز : شمارہ نمبر-007
فارسی کہانیاں۔2
آج،کراچی
ساحری، شاہی، صاحب قرانی: داستان امیر حمزہ کا مطالعہ
شمس الرحمن فاروقی
داستان تنقید
شمارہ نمبر-011
ظفر محمود شیخ
May 1993آنکھ مچولی
شمارہ نمبر-005
جون ایلیا
May 1960انشاء، کراچی
فارسی کہانیاں۔3
خواتین کے تراجم
شمارہ نمبر۔007،008
غلام احمد
سوغات، کراچی
آج آنگن میں ترے ہجر کا سورج نکلاآج ممکن ہے مرے زخم سے کرچی نکلے
ٹکراتے رہتے ہیں اکثر پتھر جیسے لوگوں سےہم دل والے کرچی کرچی آئینے سے رہتے ہیں
کیوں نہ رہے اس دل میں اس کی کرچیاک تمثیل جو دیکھی تھی فریادوں والی
جا کر لپٹ جاؤں کیاکرچی کرچی یہ خوابوں کے اعضا جو بکھرے پڑے ہیں
ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھیدیوار خواب نیند نے ترچھی اٹھائی تھی
اک حرف کی کرچی مرے سینے میں چھپی تھیپہروں تھا کوئی ٹوٹ کے رویا اسے کہنا
میرے کمرے میں پڑی شیشے کی کرچی میں بھیدھندلی دھندلی سی کہیں تیری جھلک باقی ہے
کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میںان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے
وہ روپ نگر ہے شیشے کاجب کرچی کرچی بکھرو گے
آئینہ کیسا ہے کرچی کرچیدھوپ ایسی کہ منڈیروں سے گری جاتی ہے
زہر سے زہر کٹے کانٹے سے کرچی نکلےدے نیا درد کہ یہ ٹیس پرانی نکلے
خواب کی کرچی چبھتی جائےاشک مرے رخسار پہ آئے
جس نے توڑا دل مرا اور خواب کرچی کر دیےاس کو شیشے کا بنا میں اک مکاں دے جاؤں گا
کسیلی نمی کے رنگ سےزبان کی کرچی کو آشنا کیا
کسی آواز سے نکلی ہوئی کرچیمرے اندروں کہیں پر گڑ گئی استاد
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books