aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lagaam"
اوم پرکاش لاغر
born.1924
شاعر
دت بھارتی
1925 - 1992
مصنف
پی۔ ایل۔ لکھن پال
عبدالجبار عابد لغاری
ایل۔ لاگن
لدھا رام
بھارت ہومیو فارمیسی، لکھنو
ناشر
پھر غزل کی روش پہ چل نکلاتوسن طبع چاہتا تھا لگام
منہ پھٹ تھا بے لگام تھا رسوا تھا ڈھیٹ تھاجیسا بھی تھا وہ دوستو محفل کی جان تھا
اگر کبھی میں جدائیوں کا سبب بتاؤںتو میری نظموں سے خوف کھانے لگیں جریدے
خواہشیں جانے کس طرف لے جائیںخواہشوں کو نہ بے لگام کرو
ابو لہب نے یہ رنگ دیکھا لگام تھامی لگائیمہمیز ابو لہب کی خبر نہ آئی
लगाओ لَگاؤ
تعلق ، واسطہ ، نسبت ، علاقہ .
लगाई لَگائی
لگائی ہوئی، بھڑکائی ہوئی (آگ)
ہندی
लग़ाम لَغام
(عو) لگام
عربی
लगाम لَگام
گھوڑے کو قابو میں رکھنے والی رسّی یا تسمہ جس کے سرے گھوڑے کے منھ کے ساز کے حصّے میں جس کو دہانہ کہتے ہیں بندھے ہوتے ہیں اور درمیانی حصّہ سوار کے ہاتھ میں رہتا ہے، عنان، باگ، راس
فارسی
کلام بے لگا
این ۔ بی ۔ سین ۔ ناشاد دہلوی
مجموعہ
کلام بے لگام
ناشاد
لگام بے لگام
شاہد ساگری
من لگن
قاضی محمود بحری
مثنوی
چھوٹی صنعتیں کیسے لگائیں
نامعلوم مصنف
معاشیات
لمحۂ موجود
نصرت صدیقی
خواجہ حسن نظامی کی نثر: ثقافتی لائحہ عمل
ڈاکٹر مولا بخش
ہندوستان میں تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
مذہبی تحریکیں
فتنۂ مودودیت یا جماعت اسلامی ایک لمحۂ فکریہ
محمد زکریا
مسلمانوں کا ماضی و حال اور مستقبل کیلئے لائحۂ عمل
جن حسن عبدالرحمن
افسانہ
مثنوی من لگن
سلمیٰ سے دل لگا کر
نیر واسطی
ایکٹ نمبر 22-1886
تاریخ
لگان
عبدالرحمٰن چغتائی
سسرال میں بھی دال کا گلنا محال ہےسالے ہیں بے لگام چلو شاعری کریں
اک دھما چوکڑی ہے سینے میںیہ کہیں بے لگام دل تو نہیں
سخن کا توسن چالاک بے لگام نہیںہمیں ہے پاس روایت سو ہیں نکیل میں ہم
جب لگایا حق کا نعرہ دار پر کھینچا گیانخل صنعت اس کے خوں کی دھار پر سینچا گیا
یہ کون ہیں کہ خدا کی لگام تھامے ہوئےپڑے ہوئے ہیں قناعت کے شامیانوں میں
نکیل ڈالنی ہے نفس کے ارادوں پربنا لگام کے گھوڑے تھما نہیں کرتے
ظلم ہی احمقوں کی منہ زوریتنگ یہ بے لگام کرتے ہیں
انسان جانوروں کو تو لگام لگا کر اپنا تابع دار بناتے ہیں لیکن جب ایک انسانی قوم دوسری انسانی قوم کو اپنا تابع دار بناتی ہے، تو گو اس کے منہ میں لوہے کی لگام نہیں لگاتی تاہم اس کے منہ میں ایک لگام لگا دیتی ہے جس کا نام...
افسر بھی بے نکیل ہیں اسٹاف بے لگامجنتا کا ہے یہ حال کہ کرتی ہے رام رام
ہیں جس کے پاس ووٹ مدارالمہام ہےلیلائے لیڈری کی وہ تھامے لگام ہے
نمو کو روک قلم کو لگام دے ارشدؔکہ یہ غزل ترے پردے اٹھانا چاہتی ہے
اسے لگام کیوں نہیں ڈالتاکیسی شتر بے مہار ہوئی پھرتی ہے
زندگی کو حرام مت کرناشوق کو بے لگام مت کرنا
اے رہگذار سلسلۂ عشق بے لگامجانا کہاں ہے تو نے بتایا نہیں مجھے
زباں پھسل کے تری شان تجھ سے چھینے گیلگام دے تو اسے میرے یار چپ خاموش
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books