aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maraasim"
میکسم گورکی
1868 - 1936
مصنف
مراتب اختر
شاعر
برتر مدراسی
born.1924
حیات مدراسی
چونچ گیاوی
born.1967
محمد حبیب اللہ
1829 - 1874/75
مکارم الحق مکارم
مدیر
مراحب قاسمی
پرتو مدراسی
ابو المکارم سلیم اللہ سلفی
ابو المحاسن محسن خاں متین
کمال مدراسی
ابوالمکارم ظفر عالم خطیب
کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی
ناشر
ناصر مكارم شيرازي
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تورسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سےوہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گےوہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
لفظ مرثیہ عربی لفظ ’رثا‘ سے مشتق جس کے معنی ہیں کسی کی وفات پر رنج و غم ظاہر کرنااور رونا۔ اردو شاعری کی ایک صنف کی حیثیت سے کسی بھی عزیز کی وفات پر اظہار غم سے |متعلق نظم کو مرثیہ کہا جا سکتا ہے
मरासिम مَراسِم
رسمیں ، رسومات ، دستور ، معمولات ، قاعدے
عربی
मरासी مَراثی
جمع مرثیہ کی
जरासीम جَراثِیم
جرثومہ، خورد بینی ذرہ، نبات یا کیڑا
मनासिम مَناسِم
طریقے ، اطوار
شبلی اور آزاد
شمس بدایونی
تنقید
شادی غمی کی مراسم کی حدبندی
نامعلوم مصنف
مراسم عزا کا ثبوت اور آثار شہادت
Sep 1956
مراسم
مجموعہ
نسرین ترنم
ناول
مارکسزم ایک مطالعہ
ظفر امام
جواہر انیس
میر انیس
مرثیہ
محاسن کلام غالب
عبدالرحمٰن بجنوری
شاعری تنقید
مارکسی فلسفہ، اشتراکیت اور اردو ادب
وہاب اشرفی
بزم انیس
مکارم اخلاق
رضی الدین الطبرسی
اسلامیات
مراثی نسیم
نسیم امروہوی
مارکسی فکرو فلسفہ کے خدو خال
فریڈرک اینگلز
فلسفہ
قرآن کا فنی محاسن
سید قطب شہید
مآثر عالمگیری
محمد ساقی مستعد خاں
تاریخ
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیےاب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گےہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں
اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دکھ نہیںپر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیںمہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں
یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوصکبھی کبھی مجھے سب کچھ عجیب لگتا ہے
دیکھ اب قرب کا موسم بھی نہ سرسبز لگےہجر ہی ہجر مراسم میں سمویا کیسا
فرصت کہاں بناؤں مراسم نئے نئےپچھلے تعلقات میں الجھا ہوا ہوں میں
مظالم ترے عافیت آفریںمراسم سہانے سہانے ترے
برائے نام ہیں ان سے مراسمبرائے نام جینا پڑ رہا ہے
اک آدمی سے ترک مراسم کے بعد ابکیا اس گلی سے کوئی گزرنا بھی چھوڑ دے
دیے کے اور ہواؤں کے مراسم کھل نہیں پاتےنہیں کھلتا کہ ان میں سے یہ کس کی آزمائش ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books