aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "marasi"
عبد القادر بیدل دہلوی
1644 - 1720
مصنف
پارس مزاری
born.1985
شاعر
درشن دیال پرواز
born.1935
حسین احمد مدنی
برتر مدراسی
born.1924
حیات مدراسی
نسیم نور محلی
1912 - 1967
محمد حبیب اللہ
1829 - 1874/75
عنصرالمعالی کیکاووس بن قابوس ابن وشمگیر زیاری
1021 - 1087
1887 - 1957
یونیورسٹی آف مدراس
ناشر
علی بن العباس المجوسی
930 - 994
شاہ مستعان
آیت اللہ مددی
یولی مگاری
اردومرثیے کے تمام واقعات اور کردار عرب کی اسلامی تاریخ سے ماخوذ ہیں۔ ان میں کچھ بھی ہندوستان کا نہیں۔ لیکن مرثیہ کو جو فروغ ہندوستان میں حاصل ہوا، عرب ممالک یا ایران میں نہیں ہوا۔ اردو مرثیہ دکن میں بھی لکھاگیا اور دہلی میں بھی لیکن یہ اپنے عروج...
شاعری میں جب فنکاری یا اس کے اعلیٰ معیار کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے ذہن جمالیاتی قدروں کی طرف جاتا ہے۔ یعنی اگر فن پارہ جمالیاتی اعتبار سے کمزور ہے تو اسے اعلیٰ درجے کی تخلیق نہیں قرار دیا جا سکتا۔...
مرزا دبیر اردو مرثیے کی عظمت کے بنیادی ستونو ں میں ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی شاعری ہمیشہ سوالیہ نشانوں کی زد پر رہی۔ میرے خیال میں اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دبیر کو دبیر کی شکل میں نہیں دیکھا گیا۔...
یہ کون پڑھ رہا ہے مراثی انیس کےہر سمت مرحبا کی صدا زیب گوش ہے
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تورسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
मरासी مَراثی
جمع مرثیہ کی
عربی
मराज़ि' مَراضِع
بچے کو دودھ پلانے والی عورتیں ، دائیاں ۔
मरासिम مَراسِم
رسمیں ، رسومات ، دستور ، معمولات ، قاعدے
नारसी نارَسی
منزل ِمقصود تک نہ پہنچنے کی حالت، ناکامی، نامرادی
فارسی
جواہر انیس
میر انیس
مرثیہ
بزم انیس
مراثی نسیم
نسیم امروہوی
انتخاب مراثی مرزا دبیر
مرزا سلامت علی دبیر
مراثی انیس
مراثی میر انیس
انتخاب مراثی انیس
انتخاب مراثی
اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ
کلیات جمیل مظہری (مراثی و قصائد)
جمیلؔ مظہری
کلیات
مراثی رضا
آل رضا رضا
انتخاب مراثی انیس و دبیر
مراثیٔ عظیم
عظیم امروہوی
مراثی میر خلیق
میر خلیق
انتخاب مراثی دبیر
سلام
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتےورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لو
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سےوہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملاان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گےوہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیےاب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گےہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں
گیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیا
اب تو ہمیں بھی ترک مراسم کا دکھ نہیںپر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایاکہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے
یہاں اک مدرسہ ہوتا تھا پہلےمگر اب کارخانہ چل رہا ہے
آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہےجس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books