aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maruu.n"
خلیل مامون
born.1948
شاعر
مامون ایمن
born.1941
فرحانہ مامون
مدیر
سید شاہ مرہون الاشاد القادری
پروفیس مامون ایمن
مامون رشید
مصنف
محمد المامون
مامون بن عبد الوہاب
مامون حسن خاں
سید معروف شاہ شیرزی
مترجم
مامون فریز جرار
منشورات دار ساقنا والمامون، الخرطوم
ناشر
دارالمامون للترجمۃ، بغداد
کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہےشیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جاؤں جیتایہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
میں اب مروں کہ جیوں مجھ کو یہ خوشی ہے بہتاسے سکوں تو ملا مجھ کو بد دعا دے کر
میرے سینے میں آگ ہے ایسیپھونک ماروں تو جل پڑے سگریٹ
یاد میں اس کے ساق سیمیں کیدے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر
कहूँ کَہُوں
کہنا (رک) کا مغیّرہ صورت ؛ تراکیب میں مستعمل.
लगूँ لَگُوں
تک، تلگ، نزدیک، پاس
आतूँ آتُوں
آتو
हमूँ ہَمُوں
وہ چیز ؛ رک : ہماں ؛ گویا ، شاید ، ہمچناں (تراکیب میں مستعمل) ۔
المامون
شبلی نعمانی
نصابی کتاب
ذکر خیرالمعروف بہ صحیفۂ محبوب
محبوب عالم
سوانح حیات
کلام شاد المعروف بہ اسم تاریخی مخزن اسرار معرفت
شاد میرٹھی
انتخاب
لال شہباز قلندر
اے۔ ایم۔ اخترنگری
آفاق کی طرف
مجموعہ
کیفیت خاندان محمد
جہاں نما علی شاہ چشتی
تاریخ اسلام
تاریخ معظم آباد معروف بہ گورکھپور
مولوی سید غلام حضرت
تاریخ
عہد مامون کی طبی و فلسفیانہ کتب
عشرت اللہ خان
عہد مامون اور امام رضا
سید ابن حسن جارچوی
اسلامیات
سرسوتی کے کنارے
شاعری
معجون
واحد انصاری برہانپوری
سانت رس
شاہ محمد کاظم قلندر
کلیات
بن باس کا جھوٹ
مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤںندیمؔ کاش یہی ایک کام کر جاؤں
نزع میں سورۂ یوسف کوئی للہ پڑھےدم بھی نکلے تو مروں سن کے میں افسانۂ عشق
میں چاہتا ہوں موت جو آئے مری طرفمیں موت کو گلے سے لگا لوں مروں نہیں
آرزو ہے جو مروں میں تو یہیں دفن بھی ہوںہے جگہ تھوڑی سی درکار ترے کوچے میں
بے آئی مروں تم پہ کہ مرنا ہے مقدرکیوں مفت میں احسان اٹھاؤں میں قضا کا
رومیو جیسا مروں زہر محبت کھا کرجولیٹ سی کوئی لڑکی مجھے درکار نہیں
پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کوڈوب مروں میں
جان کی طرح تمنا ہے یہی دل میں ریاضؔمروں کعبے میں تو منہ سوئے مدینہ ہو جائے
جب ماروں چہرے پہ تمہارےپہلے تم کو سانس نہ آئے
ان وجودوں کو کیا میں جیوں یا مروں
جی چاہتا ہے چلو بھر پانی میں ہی مروںکوئی راستہ نہیں ہے
بلو کو چپ کراؤں کہ ماروں قمر کو میںفرش زمین دھوؤں کہ مانجوں ککر کو میں
اگر مچھر کو مکا ایک ماروںتو فوراً خاک میں اس کو ملا دوں
عرضی لگا دوں جا کے عدالت میں مہر کیہاں لے مروں جو ان کو ہو بہتان کی ہوس
تمنا تھی کہ اک سکھ میں بھی ماروںیہ پوری تو نے کی اللہ تعالی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books