aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mauj-e-ruud-e-ga.ngaa"
موج دریا پبلشر
ناشر
بزم روح ادب، ٹانڈہ
انجمن روح ادب، الہ آباد
حضرت رعد جونپوری
مصنف
روح عصر، کراچی
روح ادب پبلی کیشنز، کلکتہ
محفل گنگ و جمن
ادارۂ گنگ وجمن، جمشید پور
حضرت مسیح موعود
بزم اردو، مئو
اراکین غازی کمیٹی، مئو
اہل حدیث اکیڈمی، مئو
ادارہ تحقیقات اسلامی، مئو
مکتبۂ قادریہ پورہ معروف، مئو
گاندھی فیض عام کالج، شاہجہان پور
فسانہ گو ہے تری ابھی تک حدیث یوناں کی خوں چکانیہے تیری الفت کے راگ پر موج رود گنگا کو وجد اب تک
اے آب رود گنگا اف ری تری صفائییہ تیرا حسن دلکش یہ طرز و دلربائی
تو اے کاویری ہے رشک رود نیلتیری اک اک موج موج سلسبیل
اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کواترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
جو گرد ساتھ نہ اڑتی سفر نہ یوں کٹتاغبار راہ گزر موج بال و پر نکلا
پیش ہے گاندھی جی کے کتابوں کا اردو ترجمہ
مایوسی زندگی میں ایک منفی قدر کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن زندگی کی سفاکیاں مایوسی کے احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتیں ۔ اس سب کے باوجود زندگی مسلسل مایوسی سے پیکار کئے جانے کا نام ہی ہے ۔ ہم مایوس ہوتے ہیں لیکن پھر ایک نئے حوصلے کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ مایوسی کی مختلف صورتوں اور جہتوں کو موضوع بنانے والا ہمارا یہ انتخاب زندگی کو خوشگوار بنانے کی ایک صورت ہے ۔
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
موج نسیم حجاز
تاج الدین اشعر
نعت
موج خون
عرفان ترابی
شاعری
موج طوفان و شور باران
سید محمد وزیر
مسدس
رود دود
سید عباس متقی
موج ادب
کوثر مظہری
موج نور
مقصود عالم رضوی
نگار خانہ گنگا
سید نقی عباس کیفی
مجموعہ
موج عارض
صابر دت
موج زمزم
آغا محمد شاہ حشر
رود کوثر
شیخ محمد اکرام
موج نسیم
متر نکودری
موج طوفان
ساحل آفندی
موج نظر
عقیل ہاشمی
موج صبا
موج خوں
احمد ریاض
نظم
پھر سے ساحل کا کھل اٹھا چہرہموج طوفان ٹل رہی ہے کیا
بے کراں ہوں میں سمندر کی طرحموج شبنم قد مرا ناپے گی کیا
یہ موج تاکہ سفینے کو گرم رو رکھےکچھ آگ خیمۂ آب رواں میں رکھ دینا
مٹھی میں جکڑ رکھا ہے ہر موج رواں کوبیتاب سمندر کو اچھلنے نہیں دیتے
کنارے موج سے ملتے رہے تھےمگر اب مستیٔ ساحل نئی تھی
اے موجؔ گنہ گار ہوں امید ہے پھر بھیہوگی یہ دعا میری مناجات میں یکتا
گر چاہو موج زیست سدا دوڑتی رہےسر مثل بحر سینۂ ساحل پہ چھوڑ دو
میری کشتی کو بہرحال ہے موجوں سے لگاؤہو جو ہر موج کو ہے شامل طوفاں ہونا
اک سبک موج ہے اک لوح درخشاں پہ رواںہے تماشائی یہاں سارا جہاں ہم نفسو
پڑا تھا عکس روئے نازنیں عرصہ ہوا اس کوپر اب تک تیرتا پھرتا ہے شکل گل سمندر میں
چلو اک دوسرے کا ہاتھ تھامے ساتھ چلتے ہیںرہے گا کون زندہ موجؔ اس دنیائے فانی میں
نفس کے تار ٹوٹے جا رہے ہیںکہ چشم موجؔ پر نم ہو رہی ہے
بیٹھا ہے موجؔ بزم میں اس کا بھی کر خیالپہلو میں تیرے درد محبت لیے ہوئے
ہے اس کو فقط اپنی ہی عذرا کا جنوںیہ موجؔ بھی اے دوستو وامق نکلا
میں ان دنوں گودی کے علاقے میں سامان اٹھانے کا کام کیا کرتا۔ شام کی طرف،جب میرے پاس کرنے کو کچھ نہ ہوتا، میں اپنے وقت کو دو حصوں میں بانٹ لیتا۔ سورج ڈوبنے سے قبل میں لوہے کے پل پر بیٹھا لوگوں کے جوتے پالش کیا کرتا۔...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books