aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mohtasib"
رسا چغتائی
1928 - 2018
شاعر
مولانا محتشم کاشانی
مصنف
مولوی محمد محسن
میر محتشم علی
ناشر
مہتمم حلقۂ ارباب فکر
مہتمم کتب خانہ علم و ادب، دہلی
مدیر
دفتر صدر محاسب سرکار عالی
محتشم قادری
عطیہ کار
محمد محتثم لکھنوی
مہتمم مطبوعات، حیدرآباد
مہتمم کتب خانہ، لکھنؤ
مطبع محتشم
شیخ آیا تھا محتسب کو لیےمیں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے
محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سےرند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام
ہر قدم پر ہے محتسب جالبؔاب تو ہم چاندنی سے ڈرتے ہیں
فیضؔ کیا جانیے یار کس آس پر منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبرمے کشوں پر ہوا محتسب مہرباں دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آ گیا
تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسایہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے
मोहतसिब مُحتَسِب
مفتی، قاضی، شیخ، مجسٹریٹ، کوتوال، بازار میں ناپ تول پر نظر رکھنے والا شخص، جانچ کرنے والا افسر
عربی
मुहतसिबी مُحْتَسِبی
محتسب کا کام ، محتسب کا منصب ؛ روک ٹوک کرنا ۔
मोहताजी مُحْتاجی
ضرورت، حاجت، احتیاج
मोहताली مُہتالی
(گاڑی بانی) ایک گھوڑے کی گاڑی کے بم کے پچھلے حصے پر جڑے ہوئے ایسے آنکڑے جس میں جوت کے سرے اٹکانے کے بعد از خود نہ نکل سکیں
انڈین میوزک
موسیقی
دوازدہ بند محتشم کاشانی
جامع النغمات
سیر المحتشم
محمد خان بہادر گویا
شرح ضابطۂ فوجداری
رسالہ شریفہ
غزل
سفرنامہ برما
قاری محمد طیب
ضابطۂ فوجداری
قانون / آئین
مجموعہ گشتیات دفتر صدر محاسب سرکار عالی
روض الریاجین فی حکایات الصالحین
نامعلوم مصنف
افادۃ المبتدی
مولوی محمد حبان
زبان
بادل گرج رہا تھا ادھر محتسب ادھرپھر جب تلک یہ عقدہ نہ سلجھا شراب پی
محتسب آج تو مے خانے میں تیرے ہاتھوںدل نہ تھا کوئی کہ شیشے کی طرح چور نہ تھا
محتسب چن لینے دے اک اک مجھےدل کے ٹکڑے ہیں یہ ٹکڑے جام کے
بے لغزش پا مست ہوں ان آنکھوں سے پی کریوں محتسب شہر کو حیران کیا جائے
اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینکظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے
محتسب نے ہی پڑھا ہوگا مقالہ پہلےمری تقریر بہ ہر حال جوابی ہوگی
مے خوار تو ہے محتسب شہر زیادہرندوں نے یوں ہی مفت میں الزام لیا ہے
میں ہی اپنا محتسب بن جاؤں ورنہ دوستوگمرہ منزل ہوں یا ہوں راہ پر دیکھے گا کون
عام حکم شراب کرتا ہوںمحتسب کو کباب کرتا ہوں
بند ہیں سب مے کدے ساقی بنے ہیں محتسباے گرجتی گونجتی کالی گھٹاؤ چپ رہو
ہوتی ہے روز بادہ کشوں کی دعا قبولاے محتسب یہ شان کریمی خدا کی ہے
غضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑاارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا
ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسبفردوس میں بھی سنتے ہیں نہر شراب ہے
نہ کرنا ترک بیخودؔ محتسب کے ڈر سے مے خواریکہیں دھبا لگا لینا نہ اپنے نام پر دیکھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books