aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "munhadim"
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
1703 - 1762
مصنف
محمد محدث جوناگڑھی
انتقام الحسنین منتقم حیدری
ندیم عرشی
1950 - 2016
امیر حسن سہا محدث دہلوی
منتقم سنبھلوی بریلوی
محمد علی منصرم
سید نذیر الحق محدث
عبدالرؤف منادی
علامہ عبد الجبار محدث
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
محمد شاہ محدث رامپوری
احمد رضا منصرم
ناشر
خواجہ عبد المنتقم
دفتر اخبار منادی، حیدرآباد
منہدم کر دے گا آ کر ساری تعمیرات دلدیکھتے ہی دیکھتے ویران کر دے گا مجھے
منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سالایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے
منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتےہم بھی اپنے خشت زاروں کے لیے آسودگی کا باب ہوتے
خواب دیکھا تھا کہ ہم ہوں گے بچھڑنے والےمنہدم ہو گئے پر خواب نہ ٹوٹا اپنا
मुंहदिम مُنْہَدِم
گرا ہوا، مسمار (عمارت وغیرہ)
عربی
मुनहदिमा مُنْہَدِمَہ
رک : منہدم
मुन'अदिम مُنعَدِم
معدوم، نیست و نابود، ناپید، فنا، مٹ جانے والا
मुंहज़िम مُنْہَزِم
شکست کھانے والا، شکست خوردہ، لڑائی سے بھاگ جانے والا، پیٹھ دکھانے والا، بھاگا ہوا، مات کھانے والا
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور ان کی علمی خدمات
ڈاکٹر ثریا ڈار
تصوف
حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی
خلیق احمد نظامی
سوانح حیات
الامام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
عبدالقیوم مظاہری
شمارہ نمبر۔004
خواجہ حسن ثانی نظامی
Apr 1973منادی، نئی دہلی
واقعۂ راجپوتانہ
تاریخ
003, 004
نا معلوم ایڈیٹر
منادی، نئی دہلی
مکتوبات حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
شاہ عبدالرحمٰن پھلتی
خطوط
001, 002, 003
Apr 1977منادی، نئی دہلی
غوش الاعظم
شمارہ نمبر۔001
تذکرہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی
سید احمد قادری
علیم اشرف خاں
منادی
شاہین عباس
شاعری
نادر مکتوبات حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ
000
خواجہ حسن نظامی
Jan 1936منادی، نئی دہلی
مرے لہو سے مجھے منہدم کرایا گیادیار غیر سے لشکر کہاں بلائے گئے
تم اعتماد آفیؔ کو مت کرنا منہدممشکل پڑی تو تم کو پکارا کریں گے ہم
بھولے سے کل جو آئنہ دیکھا تو ذہن میںاک منہدم مکان کا نقشہ اتر گیا
منہدم ہوتے ہوئے وقت سے پوچھو تو سعودؔکیا ہوئے وہ ترے ہاتھوں کے بنائے ہوئے شخص
منہدم ہو جائے گی اخترؔ فصیل انتشارجب نواح جاں میں ویرانی کا لشکر آئے گا
منہدم ہونے لگی دیوار جاںجسم کا ظلمت کدہ روشن ہوا
پلازا منہدم ہو جائے تو اس کے دھماکے میںمسلسل چرچراہٹ
ہڈیاں عریاں ہوئیں اور منہدملوتھڑا گل سڑ کے پھر سے بوند تھا
وہ منہدم سہی دیوار تو ملی اے رندؔاسی کے سائے میں تسکین کا ٹھکانا ہوا
جانے کب منہدم ارکان عناصر ہو جائیںریت پر جسم کی تعمیر لئے بیٹھے ہیں
دور تک یہاں تک کہ منہدم ہوتے شہر کی دسترس سے نکل جاؤںسبھی یادوں اور وعدوں کو کچلتے ہوئے
منہدم ہو جائے گا دیوار زنداں خودبخوداہل زنداں قید محنت سے رہا ہو جائیں گے
منہدم ہو گئی دیوار دل دیوانہمیری قسمت میں تھی تصویر شکستہ تیری
بنیاد دیں ہوائے دنیا نے منہدم کیطوفان نے شجر کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا
بنائے کہنہ کے آثار منہدم کر کےجہان تازہ بدست خود آفرید کریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books