aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "muravvat"
منور رانا
1952 - 2024
شاعر
منور خان غافل
منور لکھنوی
1897 - 1970
منور بدایونی
1908 - 1984
عدنان منور
born.1999
علی مزمل
born.1966
منور جہاں منور
منور ہاشمی
born.1957
صغیر علی مروت
شریف منور
مصنف
زریں منور
born.1983
منور جمیل
born.1947
پروفیسر محمد منور
1923 - 2000
منور حسن کمال
born.1959
منور سلطانہ
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبواور اتنی ہی بے مروت ہو
یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہمروٹھتے اب بھی ہیں مروت میں
آ چکا پیش وہ مروت سےاب چلوں کام ہو چکا میرا
بے وفا بے مروت ہے ان کی نظر یہ بدل جائیں گے زندگی لوٹ کرحسن والوں سے دل کو لگایا اگر اے فناؔ دیکھو بے موت مر جاؤ گے
بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیاوہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح
ملاقات کو شاعروں نے کثرت کے ساتھ موضوع بنایا ہے ۔ یہ ملاقات بنیادی طور پر محبوب سے ملاقات ہے ۔ شاعر اپنی زندگی میں جو بھی کچھ ہو لیکن شاعری میں ضرور عاشق بن جاتا ہے ۔ ان شعروں میں آپ ملاقات کے میسر نہ ہونے ، ملاقات کے انتظار میں رہنے اور ملاقات کے وقت محبوب کے دھوکا دے جانے جیسی صورتوں سے گزریں گے ۔
मुरव्वत مُرَوَّت
رعایت، لحاظ، پاس
عربی
मुरव्वती مُرَوَّتی
بااخلاق، مروّت سے پیش آنے والا، رحم دل، ملاحظہ کا، لحاظ کرنے والا
मुरव्वा' مُرَوَّع
درستی اور فراست سے آراستہ ، تیز فہم ، باریک بین
मुसावात مُساوات
برابری، یکسانی (قدر، مرتبے وغیرہ میں) برابر ہونا یا کرنا، یکساں حالی، یگانگت، ہمسری، تعدیل
سائیکلو پیڈیا آف ہومیوپیتھک ڈرگز (مخزن المفردات)
ڈاکٹر کاشی رام
ہومیوپیتھی
مخزن المفردات
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
ماں
مجموعہ
چہرے یاد رہتے ہیں
خاکے/ قلمی چہرے
کہو ظل الٰہی سے
کنز المفردات
حکیم محمد عبداللہ
طب
جنگلی پھول
غزل
بغیر نقشے کا مکان
مضامین
اردو میں حمد و مناجات
سید یحییٰ نشیط
شاعری تنقید
کتاب الادویہ
اردو محاورات و ضرب الامثال
مولوی محمد اسمٰعیل
مناجات بیوہ
الطاف حسین حالی
نظم
سفید جنگلی کبوتر
آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبانسو مجھے زہر مروت تو پلاتے جائیے
حالیؔ نے مروت کا سبق یاد دلایااقبالؔ نے آئینۂ حق مجھ کو دکھایا
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
وہ مروت سے ملا ہے تو جھکا دوں گردنمیرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کامروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نےمعزز ہو گئے ہم بھی شرافت چھوڑ دی ہم نے
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گامیں غم شناس مروت میں مارا جاؤں گا
نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلیبنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو
جبینوں پہ نور مسرت نہ کھلتانگاہوں میں شان مروت نہ ہوتی
کون پہچانے گا دانشؔ اب تجھے کردار سےبے مروت وقت کو تازہ نشانی چاہیئے
کوئی حرف بے مروتکسی کنج لب سے پھوٹا
کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسےوہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
نہ محبت کو جانتے ہو تمنہ مروت کو دیکھتا ہوں میں
دیکھی ہیں بڑے غور سے میں نے وہ نگاہیںآنکھوں میں مروت کا کہیں نام نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books