aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naalish"
امام بخش ناسخ
1772 - 1838
شاعر
نریش کمار شاد
1927 - 1969
نقش لائل پوری
1928 - 2017
مہیش چندر نقش
1923 - 1980
سیدہ نفیس بانو شمع
born.1957
نازش پرتاپ گڑھی
1924 - 1984
ڈاکٹر نریش
born.1942
اکرم نقاش
مقبول نقش
died.2005
نلنی وبھا نازلی
born.1954
مصنف
نسرین نقاش
born.1963
اشو جھا نقاش
born.1997
نقاش علی بلوچ
born.1986
نازش بدایونی
1875 - 1936
شبیر نازش
اس بار کچہری میں اس بات کی نالش ہوگیبارش بارش بارش ہوگی
یہ دنیائے محبت بھی انوکھی چیز ہے صاحبکبھی انکار پر نالش کبھی اقرار کا جھگڑا
کوئی منصف نہیں شاید میسرستم گر سے جو نالش ہو رہی ہے
حق پر مرے ہونے میں کوئی شک تو نہیں تھااس مرتبہ کیا جان کے نالش ہی نہیں کی
تم تو واقف ہو مری نالش سےغم میں تخفیف بجا ہے بھائی
لکھنو کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعرمرزا غالب کے ہم عصر
ख़लिश خَلِش
چبھن، کھٹک
فارسی
नालिश نالِش
گریہ و زاری
नालिशी نالِشی
نالش سے منسوب یا متعلق، مدعی، دعویدار، فریادی، شاکی، شکایت کرنے والا
नाज़िश نازِش
بے پروائی ، بد دماغی، ناز، فخر، گھمنڈ، رشک
اردو کی ابتدائی نشوو نما میں صوفیائے کرام کا کام
مولوی عبدالحق
زبان
اپنا گریباں چاک
جاوید اقبال
خود نوشت
اردو میں خودنوشت سوانح حیات
صبیحہ انور
تنقید
نقش فریادی
فیض احمد فیض
مجموعہ
پری خانہ
واجد علی شاہ اختر
خودنوشت
جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشو و نما
برج پریمی
اردو میں خواتین کی خود نوشت سوانح عمریاں
شبانہ سلیم
اردو خود نوشت سوانح حیات: آزادی کے بعد
محمد نوشاد عالم
ابوالکلام آزاد
دیوان غالب
مرزا غالب
دیوان
دکنی غزل کی نشوونما
محمد علی اثر
غزل تنقید
مرزا مظہر جان جاناں
سید تبارک علی نقش بندی
تحقیق
نقش حیات
حسین احمد مدنی
آئینہ در آئینہ
حمایت علی شاعر
مثنوی
جو رہی سو بے خبری رہی
ادا جعفری
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوزدل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز
غم بھی دیا جو وہ بھی تھا میرے لیے مفیدشکوہ کروں تو کیا کروں نالش کروں تو کیا
دیواروں پر کیا لکھا ہے پڑھ کے بتلاؤکیا ایسی باتوں پر یارو نالش ہوتی ہے
محتسب کے ہاتھ سے تنگ اس قدر ہیں اے قلقؔآئے ہیں نالش کو سب مے خوار قیصر باغ میں
وہی مجھ سے کہتا ہے نالش کرووہی جس نے اس دل پہ قبضہ کیا
زخمۂ موج صبا طاؤس کو آہنگ دےحجت خود نطق سے بے حالیٔ نالش کے بعد
نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھا
زندگی زندہ دلی کا ہے ناممردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناںاک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے
اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوثسایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورتہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
مانند خامہ تیری زباں پر ہے حرف غیربیگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیںتو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں
ہر دم ابدی راحت کا سماں دکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کرللٰلہ حباب آب رواں پر نقش بقا تحریر نہ کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books