aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naqshaa"
نقش لائل پوری
1928 - 2017
شاعر
مہیش چندر نقش
1923 - 1980
نخشب جارچوی
1920 - 1967
اکرم نقاش
مقبول نقش
died.2005
نسرین نقاش
born.1963
اشو جھا نقاش
born.1997
نقاش علی بلوچ
born.1986
نقاش عابدی
نقاش کاظمی
1944 - 2021
رفیق احمد نقش
1959 - 2013
نوشہ اسرار
خالد نقاش
born.1978
ناصحہ عثمانی
مصنف
سید تبارک علی نقش بندی
نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئےاس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی
مرے ساتھ چلنے کے شوق میں بڑی دھوپ سر پہ اٹھائے گاترا ناک نقشہ ہے موم کا کہیں غم کی آگ گھلا نہ دے
تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
دیکھ معمار پرندے بھی رہیں گھر بھی بنےنقشہ ایسا ہو کوئی پیڑ گرانا نہ پڑے
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
نشہ پر شاعری موضوعاتی طور پر بہت متنوع ہے ۔ اس میں نشہ کی حالت کے تجربات اور کیفیتوں کا بیان بھی ہے اور نشہ کو لے کر زاہد وناصح سے روایتی چھیڑ چھاڑ بھی ۔ اس شاعری میں مے کشوں کے لئے بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔
नक़्शा نَقشا
تصویر، شبیہ، صورت کی نقل
عربی, فارسی
नक़्शा نَقشَہ
۔ تصویر ، شبیہ ، روپ ، عکس ، پیکر ؛ روپ ۔
आ'शा اَعشیٰ
रतौंधी का रोगी, रात्र्यंध, शबकोर, जिसे रात को न दिखाई देता हो
عربی
नष्टा نَشٹا
بدچلن عورت، زانیہ، فاحشہ نیز وہ عورت جو کھوئی گئی ہو یا چھوڑدی گئی ہو
سنسکرت
رسالہ دربار آصفہ نقشہ چارمینار
نامعلوم مصنف
ہندوستانی تاریخ
حالاتِ حرمین شریفین
ہندوستانی وفاق تبدیلی کا ایک نقشہ
رشید الدین خاں
مبادی نقشہ کشی و نقشہ خوانی
عبدالستار سبحانی
دیگر
کلیو کلوسر بی ۔ اے ۔
جغرافیہ
نقشہ کشی
نقشہ کار
مسعود الدین عثمانی
کشف الحقائق
سید شرافت نو شاہی
تحقیق / تنقید
نقش فریادی
فیض احمد فیض
مجموعہ
بغیر نقشے کا مکان
منور رانا
مضامین
دیوان غالب
مرزا غالب
دیوان
مرزا مظہر جان جاناں
تحقیق
نقش حیات
حسین احمد مدنی
خود نوشت
ہماری لوک کہانیاں
نخشب مسعود
افسانہ
قلم کے آنسو
محمد طاہر نقاش
تم کو تو اس باغ کا نام پتا ہوگاتم نے تو اس شہر کا نقشہ دیکھا ہے
بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کیخوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا
نقشہ لے کر ہاتھ میں بچہ ہے حیرانکیسے دیمک کھا گئی اس کا ہندوستان
بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سےتو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے کا
پنہاریاں پانی بھرتی ہیںانگڑائی کا نقشہ بن بن کر
شہر کی اس بھیڑ میں چل تو رہا ہوںذہن میں پر گاؤں کا نقشہ رکھا ہے
قصر تن کو یوں ہی بنوا یہ بگولے ناسخؔخوب ہی نقشۂ تعمیر لیے پھرتے ہیں
مٹ گئے دل سے نقش باطل سبنقشہ اپنا جما دیا تو نے
گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقشہ بندمیری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں
اپنی ہی امیدوں کابگڑا ہوا نقشا ہوں
سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔتو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنادیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
اور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہو
لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے
چہرے پہ کسی اور کی پلکیں نہیں جھکتیآنکھوں میں کسی اور کا نقشہ نہیں بننا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books