aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nasab"
داغؔ دہلوی
1831 - 1905
شاعر
جہانگیر نایاب
born.1985
مصطفیٰ خاں شیفتہ
1806 - 1869
سائل دہلوی
1867 - 1945
سید یوسف علی خاں ناظم
1816 - 1865
مردان علی خاں رانا
died.1879
امداد امام اثر
1849 - 1933
عبد الغفور نساخ
1814 - 1889
ہجر ناظم علی خان
1880 - 1914
نواب معظم جاہ شجیع
نشانت شری واستو نایاب
born.1977
آفتاب نواب
born.1996
اکبر عظیم آبادی
born.1869
فاخر لکھنوی
1851 - 1910
مصنف
صادقہ نواب سحر
میدان وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاںعاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
حساب حرف میں آتا رہا ہے بس حسب ان کانہیں معلوم ایزد ایزداں کو بھی نسب ان کا
غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا
مرا نام و نسب کیا پوچھتے ہو!ذلیل و خوار و رسوا آدمی ہوں
ذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیں
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں۔
نقاب کو کلاسیکی شاعری میں بہت دلچسپ طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ محبوب ہے کہ اپنے حسن کو نقاب سے چھائے رہتا ہے اور عاشق دیدار کو ترستا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقاب بھی محبوب کے حسن کو چھپا نہیں پاتا اوراسے چھپائے رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ ایسے اور بھی مزےدار گوشے نقاب پر کی جانے والی شاعری کے اس انتخاب میں ہیں ۔ آپ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
नसब نَسَب
۲. نسبت ، علاقہ .
عربی
नसीब نَصِیب
قسمت، تقدیر، حصہ جو مقدر ہوچکا ہو
नसीब نَسِیب
صاحب نسب، اعلیٰ نسب کا، عمدہ نسب والا، عالی نسب، اچھے خاندان کا
नक़ाब نَقاب
وہ جالی دار کپڑا جو چہرہ چھپانے کے لیے عورتیں منھ پر ڈالتی ہیں، چہرہ ڈھانپنے یا چھپانے کا پردہ، مقنع، چہرہ پوش، پردے کا برقع، گھونگھٹ
شرف الانساب
محمد علی ارشد شرفی
تصوف
مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب
سید قمر عباس اعرجی
نسب نامہ رسول مقبول
مطبوعات منشی نول کشور
نسب نامہ زنگی پور
سید امان اللہ
تہذیبی وثقافتی تاریخ
نسب نامۂ خواجگان موضع جانپور
فضل امام
نسب نامہ
نجم الہدیٰ
تاریخ
مسلمانوں کی قدیم تعلیم کا نصب العین
حبیب الرحمن خاں شروانی
جڑیں
ناوک حمزہ پوری
نسب نامۂ رسول مقبول
نامعلوم مصنف
حفظ المریدین
سید احمد شاہ
شجرۂ نسب
ایس ۔ ایل ۔ بھیرپا
ناول
الفاروق
شبلی نعمانی
اصول سیاسیات حصہ دوم
محمد رحمت علی
مونوگراف مرزا جانجاناں مظہر
شمیم طارق
نصب الذریعۃ الی تعدید علوم الشریعۃ
احمد خان صوفی
اسلامیات
کوئی تاجر حسب و نسبکوئی دیں فروش قدیم ہے
ذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستور
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیاجہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا
ان راستوں میں نام و نسب کا نشاں نہ تھاہنگامۂ بہار میں خلقت جدھر گئی
کل مرے سر پہ مرا تاج تھا تو سب تھے مرےآج دنیا یہ مرا نام و نسب پوچھتی ہے
فقیر وہ ہیں جو اللہ تیرے بندوں کوہر امتیاز نسب کے بغیر چاہتے ہیں
تیری آنکھوں کی کرن سے اے جہان اعتبارجگمگائے گی نسب ناموں کی لوح زر نگار
حسب نسب کی جو پوچھو تو شجرہ پیش کروںخطاب کوئی نہیں ہے مرا لقب بھی نہیں
حسب نسب بھی کرائے پہ لوگ لانے لگےہمارے ہاتھ سے اب یہ بھی کاروبار گیا
تمہارے نام کی تہمت ہے میرے سر پہ نبیلؔجدا ہے ورنہ مرا شجرۂ نسب تم سے
ہمارے بارے میں کچھ پوچھتا نہیں کوئیکوئی نسب تو کوئی خاندان پوچھتا ہے
ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیںسروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیں
حسین ابن علی عالی نسب تھاسزاے عزت و باب ادب تھا
آدمی کا عمل سے رشتہ ہےکام آتا نہیں نسب کچھ بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books