aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",FAFA"
فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتیکون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سومیں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوںاک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو
تھی جو اک فاختہ اداس اداسصبح وہ شاخ سے اڑی ہی نہیں
تمہیں اس سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتےکسی دن اس کے در پہ رقص وحشت کیوں نہیں کرتے
آوارہ مزاجی نے پھیلا دیا آنگن کوآکاش کی چادر ہے دھرتی کا بچھونا ہے
بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیںتوفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں
وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھاسائے پھیلا کے شجر کیا کرتے
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدکتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
تمہیں تو فخر تھا شیرازہ بندیٔ جاں پرہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے
رشتۂ ناز کو جانا بھی تو تم سے جاناجامۂ فخر پہننا بھی تمہی سے سیکھا
پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کاجگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں
اتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی کااس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا
سورج کے ارد گرد بھٹکنے سے فائدہدریا ہوا ہے گم تو سمندر تلاش کر
پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔاس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے
دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقطدوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
نام پانی پہ لکھنے سے کیا فائدہلکھتے لکھتے ترے ہاتھ تھک جائیں گے
یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہےیہی دھواں مرے دیوار و در سے نکلا تھا
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑاسولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
دی صدا دار پر اور کبھی طور پر کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیںٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ صاف کہہ دو کہ ملنا گوارہ نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books