aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dhamkaataa"
ناتوانی نے نکل جانے کا ڈر تو کھو دیایار کو اب اپنے مر جانے سے دھمکاتا ہوں میں
اس کو بھولے برسوں گزرے لیکن آج نہ جانے کیوںآنگن میں ہنستے بچوں کو بے کارن دھمکایا ہے
یہ جام چھلکا کہ آنچل بہار کا ڈھلکاشریر شوشہ شرارہ شباب شر شوخی
آغاز محبت ہے اور دل یوں ہاتھ سے نکلا جاتا ہےجیسے کسی الھڑ کا آنچل سرکا جائے ڈھلکا جائے
کہو کون سی شکل دیکھو گے اب تمیہ چہرہ تو اک آورن سے ڈھکا ہے
کوئی دھماکا کوئی چیخ کوئی ہنگامہلہو بدن کا لہو کی شباہتیں مانگے
ایک دھکا سا لگ گیا ہے مجھےسن لیا ہے کے رو رہی ہو تم
کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرفچاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت
اک دھما چوکڑی ہے سینے میںیہ کہیں بے لگام دل تو نہیں
پھول سی انگلیاں کنگھیاں بن گئیںالجھے بالوں سے ماتھا ڈھکا دیکھ کر
اوڑھا ہوا ہے میں نے یہ کیسا عجب لباساتنا ڈھکا ہوا ہوں کہ عریانیوں میں ہوں
چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادرپاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے
بہت تھی تشنگی دریا بہت تھاسرابوں سے ڈھکا صحرا بہت تھا
تاکہ پھر شعر کا دھماکہ ہوروز بارود کھا رہا ہوں میں
چھلکا ہے کہیں شیشہ ڈھلکا ہے کہیں آنسوگلشن کی ہواؤں میں نغمہ بھی ہے ماتم بھی
غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگےآ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگے
بے سبب میری خموشی نہیں اے شاہد حسندامن صبر سے ڈھنکتا نہیں پردا تیرا
پھر پرندے اڑے ہیں شاخوں سےاک دھماکہ ہوا ہے پھر شاید
پھیل گئے ہیں رات کے سائےآنکھ سے کاجل ڈھلکا ہوگا
برابر جسم کو دھمکا رہی ہےہماری موت کہہ کر آ رہی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books