aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaseb"
ہر شام یہاں شام ویراں آسیب زدہ رستے گلیاںجس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاں
ہیں جویا کسی عظمت نارسا کےانہیں کیا خبر کیسا آسیب مبرم مرے غار سینے پہ تھا
ایسا آسیب زدہ شہر کہ دیکھا نہ سناایسی دہشت ہے کہ پتھر ہوئے سب کے بازو
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن
شکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیںجو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیں
کوئی نارسائی کا آسیب اس رہ گزر میں نہیںیہ کیسا سفر ہے کہ روداد جس کی
قلعے کے آسیب کی صورت کس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہہم نے ایسی بھی کوئی بات نہ دیکھی اس میں
آسیب تھے جتنےاور جنگل سے گزرتے ہوئے رہ گیروں نے گردن میں اترتے
لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہہم نے ایسی بھی کوئی بات نہ اس میں دیکھی
انگلیوں سے بدن اس کا پہچان لوتم اسے جان لو
جس کی جھلملاہٹ میرے اندر ایسے رقصاں ہےکہ اس کی خیرگی سے روح تک میری منور ہے
میں درد ہا درد اک نئی نظم بن رہا ہوںدرخت آسیب زادگاں دیو پیکراں
کون گستاخ ہے کیا نام ہے کیوں آیا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکو
مجھ پہ کیا بیت گئی کون سنے کیا جانےچشم خوں بستہ کو آسیب کا مامن سمجھا
انہیں مجھ سے شکایت ہے کہ میں ماضی میں جیتی ہوںمرے اشعار میں آسیب ہیں گزرے زمانوں کے
اور آسیب زمانے کہ رہے جن کا نصیبپشت در پشت بلا فصل وہ اجداد مرے
سب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گےتجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گی
کل شام یاد آیا مجھے!ایسے کہ جیسے خواب تھا
جن کی بے گانگی دل چیر دیا کرتی ہےمیں نے گھومے ہیں وہ تنہائی کے آسیب نگر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books