aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bhatiije"
اسی رفتار سے چلتا ہے جہان گزراںانہی قدموں پہ زمانے کے قدم اٹھتے ہیںکوئی عینک سے دکھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیںکوئی کاندھوں پہ اٹھاتا ہے تو ہم اٹھتے ہیںایک رقاصۂ طناز کی محفل ہے جہاںکبھی آتے ہیں بھتیجے کبھی عم اٹھتے ہیںکبھی اک گوشۂ تاریک کے ویرانے میںکسی جگنو کے چمکنے پہ فغاں ہوتی ہےکبھی اس مرحمت خاص کا اندازہ نہیںکبھی دو بوند چھلکنے پہ فغاں ہوتی ہےکبھی منزل کے تصور سے جگر جلتے ہیںکبھی صحرا میں بھٹکنے پہ فغاں ہوتی ہے
فائلیں گھر میں پڑی ہیں اور دفتر میں ہے گھرشغل بیکاری بہت ہے وقت بے حد مختصررات دن سر پر مسلط لنچ عصرانے ڈنراور حکومت خرچ اگر دے دے تو حج کا بھی سفرآج کل پیش نظر ہے ملک و ملت کی فلاحاک بھتیجے کی دکاں کا بھی کروں گا افتتاح
سبھی نزدیک تھے میرےادھر بھائی بھتیجے تھےادھر بہنیں تھیں بھانجے تھےپھر ان کے بعدرشتے جوڑنے والے صف آرا تھے
پھیلی ہے فضاؤں میں خوشی میری نظر کیہنستی نظر آتی ہیں فضائیں مرے گھر کیدل شاد مرے اہل و عیال آج بہت ہیںمصروف ہیں وہ بھی نہیں مصروف فقط میںرکھی ہے سلیقے سے ہر اک کام کی چیز آجمہمان مرے گھر میں ہیں کچھ میرے عزیز آجشادی کا مکاں گھر مرا معلوم نہ ہو کیوںمجمع ہو جب اتنا تو بھلا دھوم نہ ہو کیوںبھائی بھی ہیں بہنوئی بھی بھاوج بھی بہن بھیبیٹھا ہے بھتیجا بھی بھتیجے کی دلہن بھیبچی ادھر اک بیٹھ کے تکتی ہے دلہن کوکچھ طفل ستاتے ہیں ادھر اپنی بہن کوبچوں پہ جھلک خاص ہے تنویر سحر کیاٹھ بیٹھے ہیں سب سنتے ہی آواز گجر کیدل کش یہ فضا صبح کی یہ نور کا تڑکابلبل کی طرح بول رہا ہے کوئی لڑکابے وجہ کوئی رونے پہ آمادہ ہوا ہےحیرت سے نئے گر کو کوئی دیکھ رہا ہےبیٹھا ہے یہ چپ دوڑ رہا ہے وہ خوشی سےکھانے کے لیے ضد کوئی کرتا ہے ابھی سےکرنا ہے جو سامان ضیافت کو فراہمآ آ کے مرے کان میں کچھ کہتی ہیں بیگمہونا ہے جو خوبی سے ضیافت کا سرانجاملڑکی کے ذریعے سے بھی پہنچاتی ہیں پیغامآتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں بیگم سوئے مطبخماماؤں میں بے وقت جہاں ہوتی ہے چخ چخراحت نہ ملے کیوں انہیں ہلکی تگ و دو میںسائے کی طرح ساتھ ہے لڑکی بھی جلو میںننھی ابھی اٹھی نہیں پہلو سے پھپھی کےلیتی ہیں وہ رہ رہ کے مزے اس کی ہنسی کےلڑکے مرے خوش ہو کے ادھر دیکھ رہے ہیںاخلاص و محبت سے مخاطب ہوں جدھر میںمجمع یہ عزیزوں کا محبت کی یہ باتیںان پیار کی باتوں میں نہ چوٹیں ہیں نہ گھاتیںانوار تبسم کے تکلم سے ہیں پیداضو صبح کی اس منظر دل کش پہ ہے شیداباتوں کا ابھی تھا طربی سلسلہ جارینرگس نے کہا آ کے ہے تیار نہاری
کبھی کبھی اس پگھلتے لوہے کی گرم بھٹی میں کام کرتے،ٹھٹھرنے لگتا ہے یہ بدن جیسے سخت سردی میں بھن رہا ہو،بخار رہتا ہے کچھ دنوں سے
شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئےپا شکستہ سر بریدہ خوابجن سے شہر والے بے خبر!گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شبکہ ان کو جمع کر لوںدل کی بھٹی میں تپاؤںجس سے چھٹ جائے پرانا میلان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیںچمک اٹھیں لب و رخسار و گردنجیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیںپھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وہاں کے باغوں میںمستانہ ہوائیں آتی ہیںکیا اب بھی وہاں کے پربت پرگھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیںکیا اب بھی وہاں کی برکھائیںویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا
میں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی جب پاس تو نہیں ہوتیخود کو کتنا اداس پاتا ہوںگم سے اپنے حواس پاتا ہوںجانے کیا دھن سمائی رہتی ہےاک خموشی سی چھائی رہتی ہےدل سے بھی گفتگو نہیں ہوتیمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی رہ رہ کے میرے کانوں میںگونجتی ہے تری حسیں آوازجیسے نادیدہ کوئی بجتا سازہر صدا ناگوار ہوتی ہےان سکوت آشنا ترانوں میںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی شب کی طویل خلوت میںتیرے اوقات سوچتا ہوں میںتیری ہر بات سوچتا ہوں میںکون سے پھول تجھ کو بھاتے ہیںرنگ کیا کیا پسند آتے ہیںکھو سا جاتا ہوں تیری جنت میںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی احساس سے نجات نہیںسوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہےدل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہےجس کو اتنا سراہتا ہوں میںجس کو اس درجہ چاہتا ہوں میںاس میں تیری سی کوئی بات نہیںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی شب کی طویل خلوت میںتیرے اوقات سوچتا ہوں میںتیری ہر بات سوچتا ہوں میںکون سے پھول تجھ کو بھاتے ہیںرنگ کیا کیا پسند آتے ہیںکھو سا جاتا ہوں تیری جنت میںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنمیں تجھے چاہتا نہیں لیکنپھر بھی احساس سے نجات نہیںسوچتا ہوں تو رنج ہوتا ہےدل کو جیسے کوئی ڈبوتا ہےجس کو اتنا سراہتا ہوں میںجس کو اس درجہ چاہتا ہوں میںاس میں تیری سی کوئی بات نہیںمیں تجھے چاہتا نہیں لیکن
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں زمیں پر گزر فلک پہ مرادیکھ تو کس قدر رسا ہوں میںکام دنیا میں رہبری ہے مرامثل خضر خجستہ پا ہوں میںہوں مفسر کتاب ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میںبوند اک خون کی ہے تو لیکنغیرت لعل بے بہا ہوں میںدل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہےپر مجھے بھی تو دیکھ کیا ہوں میںراز ہستی کو تو سمجھتی ہےاور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میںہے تجھے واسطہ مظاہر سےاور باطن سے آشنا ہوں میںعلم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میںعلم کی انتہا ہے بیتابیاس مرض کی مگر دوا ہوں میںشمع تو محفل صداقت کیحسن کی بزم کا دیا ہوں میںتو زمان و مکاں سے رشتہ بپاطائر سدرہ آشنا ہوں میںکس بلندی پہ ہے مقام مراعرش رب جلیل کا ہوں میں
نوجوانوں جو طبیعت میں تمہاری کھٹکےیاد کر لینا کبھی ہم کو بھی بھولے بھٹکےآپ کے عضو بدن ہوویں جدا کٹ کٹ کےاور صد چاک ہو ماتا کا کلیجہ پھٹکے
کیا بچے سلجھے ہوتے ہیںجب گیند سے الجھے ہوتے ہیںوہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیںدن بیتے یاد دلاتے ہیںوہ کتنے حسین بسیرے تھےجب دور غموں سے ڈیرے تھےجو کھیل میں حائل ہوتا تھانفرین کے قابل ہوتا تھاہر اک سے الجھ کر رہ جانارک رک کے بہت کچھ کہہ جاناہنس دینا باتوں باتوں پربرسات کی کالی راتوں پربادل کی سبک رفتاری پربلبل کی آہ و زاری پراور شمع کی لو کی گرمی پرپروانوں کی ہٹ دھرمی پردنیا کے دھندے کیا جانیںآزاد یہ پھندے کیا جانیںمعصوم فضا میں رہتے تھےہم تو یہ سمجھ ہی بیٹھے تھےخوشیوں کا الم انجام نہیںدنیا میں خزاں کا نام نہیںماحول نے کھایا پھر پلٹاناگاہ تغیر آ جھپٹااور اس کی کرم فرمائی سےحالات کی اک انگڑائی سےآ پہنچے ایسے بیڑوں میںجو لے گئے ہمیں تھپیڑوں میںبچپن کے سہانے سائے تھےسائے میں ذرا سستائے تھےوہ دور مقدس بیت گیایہ وقت ہی بازی جیت گیااب ویسے مرے حالات نہیںوہ چیز نہیں وہ بات نہیںجینے کا سفر اب دوبھر ہےہر گام پہ سو سو ٹھوکر ہےوہ دل جو روح قرینہ تھاآشاؤں کا ایک خزینہ تھااس دل میں نہاں اب نالے ہیںتاروں سے زیادہ چھالے ہیںجو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہےرونے کو چھپانا ہوتا ہےکوئی غنچہ دل میں کھلتا ہےتھوڑا سا سکوں جب ملتا ہےغم تیز قدم پھر بھرتا ہےخوشیوں کا تعاقب کرتا ہےمیں سوچتا رہتا ہوں یوں ہیآخر یہ تفاوت کیا معنییہ سوچ عجب تڑپاتی ہےآنکھوں میں نمی بھر جاتی ہےپھر مجھ سے دل یہ کہتا ہےماضی کو تو روتا رہتا ہےکچھ آہیں دبی سی رہنے دےکچھ آنسو باقی رہنے دےیہ حال بھی ماضی ہونا ہےاس پر بھی تجھے کچھ رونا ہے
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
آسماں بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہےآہ جولاں گاہ عالمگیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دل دادہ ہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامئ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسیکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزادیدۂ عبرت خراج اشک گلگوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہےآہ اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میںسوتے ہیں خاموش آبادی کے ہنگاموں سے دورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا ہے جبیں گستر فلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیر جہانبانی سے ڈرتا تھا زوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گورشورش بزم طرب کیا عود کی تقریر کیادردمندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیںروح مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا کوئی دم چہچہایا اڑ گیاآہ کیا آئے ریاض دہر میں ہم کیا گئےزندگی کی شاخ سے پھوٹے کھلے مرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوس خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسم یہ خس آتش سوارچاند جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربیکسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنازندگی اقوام کی بھی ہے یوں ہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نےآہ مسلم بھی زمانے سے یوں ہی رخصت ہواآسماں سے ابر آزاری اٹھا برسا گیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادئ گل خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
اے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے جدا
ہر اک کو بھاتی ہے دل سے فضا بنارس کیوہ گھاٹ اور وہ ٹھنڈی ہوا بنارس کیوہ مندروں میں پجاریوں کا ہجوموہ گھنٹیوں کی صدا وہ فضا بنارس کیتمام ہند میں مشہور ہے یہاں کی سحرکچھ اس قدر ہے سحر خوش نما بنارس کیپجاریوں کا نہانا وہ گھاٹ پر آ کروہ صبح دم کی فضا دل کشا بنارس کیوہ کشتیوں کا سماں اور وہ سیر گنگا کیوہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاں فزا بنارس کیہمارے دل سے نکلتی ہے یہ دعا اخترؔکہ پھر بھی شکل دکھائے خدا بنارس کی
بھٹکے ہوئے گام انساں کو پھر جادۂ انساں دے کے گیاہر ساحل ظلمت کو اپنا مینار درخشاں دے کے گیا
دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہےآدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہےبھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہےشاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےاپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجےاور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کیجےاولیا انبیا اور رب کی خوشامد کیجےاپنے مقدور غرض سب کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کی خوشامد سے خدا راضی ہےچار دن جس کو کیا جھک کے خوشامد سے سلاموہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کامبڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دامخوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمامجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبد بخیل اور سخی کی بھی خوشامد کیجےاور جو شیطان ہو تو اس کی بھی خوشامد کیجےگر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپیار سے جوڑ دئیے جس کی طرف ہاتھ جو آہوہیں خوش ہو گیا کرتے ہی وہ ہاتھوں پہ نگاہغور سے ہم نے جو اس بات کو دیکھا واللہکچھ خوشامد ہی بڑی چیز ہے اللہ اللہجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضیپینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجےہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجےمست و ہشیار دوانے کی خوشامد کیجےبھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےعیش کرتے ہیں وہی جن کا خوشامد کا مزاججو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ محتاجہاتھ آتا ہے خوشامد سے مکاں ملک اور تاجکیا ہی تاثیر کی اس نسخے نے پائی ہے رواججو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر بھلا ہو تو بھلے کی بھی خوشامد کیجےاور برا ہو تو برے کی بھی خوشامد کیجےپاک ناپاک سڑے کی بھی خوشامد کیجےکتے بلی و گدھے کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےخوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھیتی ہےغیر کی اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہےماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا لیتی ہےنانی دادی بھی خوشامد سے دعا دیتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبی بی کہتی ہے میاں آ ترے صدقے جاؤںساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاؤںخالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاؤںسالی کہتی ہے کہ بھیا ترے صدقے جاؤںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےآ پڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسےڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسےآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسےاپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےروکھی اور روغنی آبی کو خوشامد کیجےنان بائی و کبابی کی خوشامد کیجےساقی و جام شرابی کی خوشامد کیجےپارسا رند خرابی کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا اراضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےجو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے ہیں انساںجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراںہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماںجس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےکوڑی پیسے و ٹکے زر کی خوشامد کیجےلعل و نیلم در و گوہر کی خوشامد کیجےاور جو پتھر ہو تو پتھر کی خوشامد کیجےنیک و بد جتنے ہیں یک سر کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےہم نے ہر دل کی خوشامد کی محبت دیکھیپیار اخلاص و کرم مہر مروت دیکھیدلبروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھیعاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھیجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپارسا پیر ہے زاہد ہے منا جاتی ہےجواریا چور دغاباز خراباتی ہےماہ سے ماہی تلک چیونٹی ہے یا ہاتھی ہےیہ خوشامد تو میاں سب کے تئیں بھاتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر نہ میٹھی ہو تو کڑوی بھی خوشامد کیجےکچھ نہ ہو پاس تو خالی بھی خوشامد کیجےجانی دشمن ہو تو اس کی خوشامد کیجےسچ اگر پوچھو تو جھوٹی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےمرد و زن طفل و جواں خورد و کلاں پیر و فقیرجتنے عالم میں ہیں محتاج و گدا شاہ وزیرسب کے دل ہوتے ہیں پھندے میں خوشامد کے اسیرتو بھی واللہ بڑی بات یہ کہتا ہے نظیرؔجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
میں نے چاہا تھا کہ انسان کی عظمت کے لیےایک مظلوم جوانی کو سہارا دے دوںایک ٹھکرائے ہوئے پیار کے صدمے بانٹوںایک بھٹکے ہوئے راہی کو اشارہ دے دوںایک جھلسے ہوئے احساس کو ٹھنڈک بخشوںاور کونین کو پھر ذوق نظارہ دے دوں
ہو نہیں سکتا تری اس ''خوش مذاقی'' کا جوابشام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتابرکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاقاڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاقچھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاںدید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاںموجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحابجس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراباک نگارش آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہواجیسے عارض پر عروس نو کے ہو رنگ حیاشانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شبآسماں میں منعقد ہونے کو ہے بزم طرباڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیورآ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نوردیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیںکیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیںکیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیںکیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیںکیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتاتیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صداسبزہ و گل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیںاف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیںحسن فطرت کی لطافت کا جو تو قائل نہیںمیں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books