aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "imtiyaaz"
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںکہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگوہ سرفراز ٹھہریںنیابت امتیاز ٹھہریںوہ داور اہل ساز ٹھہریں
بڑا غضب ہے خدا وند کوثر و تسنیمکہ روز عید بھی طبقوں کا امتیاز رہا
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
گھٹا ہے گھنگھور رات کالی فضا میں بجلی چمک رہی ہےملن کا سینہ ابھار پر ہے برہ کی چھاتی دھڑک رہی ہےہوا جو مستی میں چور ہو کر قدم قدم پر بہک رہی ہےکمر ہے ہر شاخ گل کی نازک ٹھہر ٹھہر کر لچک رہی ہےہوا پہ چلتا ہے حکم ان کا گھٹائیں بھرتی ہیں ان کا پانیانہیں سے سرخی بہار کی ہے انہیں سے برسات کی کہانیانہیں سے چشمے انہیں سے جھرنے انہیں سے جھرنوں کی نغمہ خوانیانہیں سے پربت انہیں سے دریا انہیں سے دریاؤں کی روانیفریب دے کر چلی نہ جائیں بڑی دھوئیں دھار ہیں گھٹائیںجب آ گئی ہیں تو جم کے برسے بغیر برسے نہ لوٹ جائیںملے نیا سب کو ایک جیون چمن کھلیں کھیت لہلہائیںہوا محبت کا راگ الاپے کسان دھرتی کے گیت گائیںیہاں پہ ہے سب کا ایک درجہ کوئی بھی چھوٹا بڑا نہیں ہےجہاں پہ ہو امتیاز اس کا وہ مے کدہ مے کدہ نہیں ہےنکل ذرا گھر سے غم کے مارے عروس فطرت کے کر نظارےسزا سمجھ کر نہ کاٹ پیارے یہ زندگی ہے سزا نہیں ہےکیا ہے جس جس نے دور اندھیرا اسے اسے روشنی میں لاؤجہاں جہاں دفن ہے اجالا وہاں وہاں پر دیے جلاؤقسم ہے آزادئ وطن کی عداوت آپس کی بھول جاؤکیا ہو جس نے گلا تمہارا اسے بھی بڑھ کر گلے لگاؤقدم جو آگے بڑھائے سب کی زباں سے دہراؤ وہ کہانینذیرؔ پندرہ اگست سے لو نئے ارادے نئی جوانیہوا سے کہہ دو کہ ساز چھیڑے امر شہیدوں کے بانکپن کاسناؤ یارو وطن کے نغمے یہ دن ہے آزادئ وطن کا
ہاں بتا دے ہم کو بھی اے روح ارباب نیازکس طرح مٹتا ہے آخر رنگ و خوں کا امتیاز
گرا رہا ہے ترا شوق شمع پر تجھ کومجھے یہ ڈر ہے نہ پہنچے کہیں ضرر تجھ کوفروغ شعلہ کہاں اور فروغ حسن کہاںہزار حیف کہ اتنی نہیں خبر تجھ کوتڑپ تڑپ کے جو بے اختیار کرتا ہےنہیں ہے آگ کے شعلہ سے آہ ڈر تجھ کویہ ننھے ننھے پر و بال یہ ستم کی تپشملا ہے آہ قیامت کا کیا جگر تجھ کوقریب شمع کے آ کر جو تھرتھراتا ہےنہیں ہے جان کے جانے کا غم مگر تجھ کوملے گی خاک بھی ڈھونڈے نہ تیری محفل میںصبا اڑائے پھرے گی دم سحر تجھ کوسمجھ نہ شمع کو دل سوز عافیت دشمنجلا کے آہ رہے گی یہ مشت پر تجھ کونہیں ہے تو ابھی سوز و گداز کے قابلنہیں ہے عشق کی عرض و نیاز کے قابلتپش یہ بزم میں فانوس پر نہیں اچھیکہ آگ لاگ کی او بے خبر نہیں اچھیکڑی ہے آنچ محبت کی شمع محفل سےلگاوٹیں ارے تفتہ جگر نہیں اچھیتڑپ تڑپ کے نہ دیوانہ وار شمع پہ گرتپش یہ شوق کی، او مشت پر نہیں اچھییہ جاں گدازئ سوز وفا سر محفلکہیں نہ ہو ترے جی کا ضرر نہیں اچھیلڑا نہ شمع سے آنکھیں کہ ہے عدو تیریتری نگاہ محبت اثر نہیں اچھییہ ننھے ننھے پروں کی تڑپ یہ بیتابیحریف شوخئ برق نظر نہیں اچھییہ پر سمیٹ کے فانوس پر ترا گرنایہ بے خودی ارے شوریدہ سر نہیں اچھیچمن میں چل کہ دکھاؤں بہار شاہد گلنظر فریب ہیں نقش و نگار شاہد گلمیں بو الہوس نہیں سمجھا ہے تو نے کیا مجھ کوپسند شاہد گل کی نہیں ادا مجھ کوفراق گل میں میں منت کش فغاں ہوں دریغیہ داغ سوز جدائی نہ دے خدا مجھ کودل گداختہ لے کر ازل سے آیا ہوںبنایا بزم میں ہے سوز آشنا مجھ کوجلے وہ بزم میں چپ چاپ اور میں نہ جلوںبعید عشق سے ہے ہو غم فنا مجھ کوتری نگاہ میں جاں سوز ہے جو اے بلبلوہ آہ آگ کا شعلہ ہے جاں فزا مجھ کوکھلا ہے تجھ پہ ابھی آہ راز عشق کہاںتو بو الہوس ہے، تجھے امتیاز عشق کہاں
شاہد بزم سخن ناظورۂ معنی طرازاے خدائے ریختہ پیغمبر سوز و گدازیوسف ملک معانی پیر کنعان سخنہے تری ہر بیت اہل درد کو بیت الحزناے شہید جلوۂ معنی فقیر بے نیازاس طرح کس نے کہی ہے داستان سوز و سازہے ادب اردو کا نازاں جس پہ وہ ہے تیری ذاتسر زمین شعر پر اے چشمۂ آب حیاتتفتہ دل آشفتہ سر آتش نوا بے خویشتنآہ تیری سینہ سوز اور نالہ تیرا دل شکنختم تجھ پر ہو گیا لطف بیان عاشقیمرحبا اے واقف راز نہان عاشقیسر زمین شعر کعبہ اور تو اس کا خلیلشاخ طوبائے سخن پر ہمنوائے جبرئیلجوش استغنا ترا تیرے لیے وجہ نشاطشان خودداری تری آئینہ دار احتیاطبزم سے گزرا کمال فقر دکھلاتا ہواتاج شاہی پائے استغنا سے ٹھکراتا ہواتھا دماغ و دل میں صہبائے قناعت کا سرورتھی جواب سطوت شاہی تری طبع غیورموجۂ بحر قناعت تیری ابرو کی شکنتخت شاہی پر حصیر فقر تیرا خندہ زنتھا یہ جوہر تیری فطری شاعری کے رتبہ داںعزت فن تھی تری نازک مزاجی میں نہاںملتفت کرتا تجھے کیا اغنیا کا کر و فرتھا تری رگ رگ میں درویشوں کی صحبت کا اثردل ترا زخموں سے بزم عاشقی میں چور ہےجس سخن کو دیکھیے رستا ہوا ناسور ہےبزم گاہ حسن میں اک پرتو فیض جمالصید گاہ عشق میں ہے ایک صید خستہ حالدیکھنا ہو گر تجھے دیکھے ترے افکار میںہے تری تصویر تیرے خونچکاں اشعار میںسیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کاجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کاآسمان شعر پر چمکے ہیں سیارے بہتاپنی اپنی روشنی دکھلا گئے تارے بہتعہد گل ہے اور وہی رنگینیٔ گل زار ہےخاک ہند اب تک اگر دیکھو تجلی زار ہےاور بھی ہیں معرکے میں شہسوار یکہ تازاور بھی ہیں میکدے میں ساقیان دل نوازہیں تو پیمانے وہی لیکن وہ مے ملتی نہیںنغمہ سنجوں میں کسی سے تیری لے ملتی نہیںصاحبان ذوق کے سینوں میں تھی جس کی کھٹکتیرتے ہیں دل میں وہ سر تیز نشتر آج تککاروان رفتہ کو تھا تیری یکتائی پہ نازعصر موجودہ نے بھی مانا ہے تیرا امتیازہو گئے ہیں آج تجھ کو ایک سو بائیس سالتو نہیں زندہ ہے دنیا میں مگر تیرا کمالحق ہے ہم پر یاد کر کے تجھ کو رونا چاہئےماتم اپنی نا شناسی کا بھی ہونا چاہئےڈھونڈتے ہیں قبر کا بھی اب نشاں ملتا نہیںاے زمیں تجھ میں ہمارا آسماں ملتا نہیں
تازگی وجہ شگفت خاطر عالم رہےمیری دنیا میں ہمیشہ ایک ہی موسم رہےشاعر و صناع ہو فکر و خلش سے بے نیازخواجہ و مزدور میں باقی نہ ہو کچھ امتیاز
فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غمہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و المآئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستمکیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہمجب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہابہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدااس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجوچھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کوشکوہ عدو کا کیا ہے جب احباب ہیں عدوجینے کی اک سیکنڈ نہیں اب تو آرزوہم نے سمجھ لیا کہ جہاں سے گزر گئےجب دل ہی مر گیا تو سب ارمان مر گئےہم پر گرائیں چرخ نے اس حد پہ بجلیاںدم بھر میں جل کے خاک ہوئیں ساری استخواںچلتی رہیں ہوائے مخالف کی آندھیاںآتا نہیں سمجھ میں کہ جا کر چھپیں کہاںزیر زمیں بھی چین کی امید اب نہیںپھر کیا ہے یہ بتا دے کوئی گر غضب نہیںمکر و فریب سے جو کریں زندگی بسرسو جاں ہزار دل سے ہو قربان ہر بشردن رات ہم ہوں اور ہوں احباب خیرہ سرایمان داریوں میں کٹی زندگی اگرہر ایک کی نگاہ میں بس خار ہو گئےبے سونچے سمجھے مستحق دار ہو گئےدعویٰ تو یہ ہے ہم بھی مسلمان ہیں ضرورکلمہ جو پوچھیے تو نہیں یاد ہے حضورکیا غم اگر شکستہ عزیزوں کے ہیں قبورتیرا یہ اس پہ حد سے زیادہ ہے کچھ غرورمیلوں کے واسطے جو طلب ہو تو خوب دیںقومی جو کوئی کام ہو تو نام بھی نہ لیںپوچھا اگر عبادت خالق ہے کوئی چیزفرمایا دل میں یہ تو نہایت ہے بد تمیزعیاشیاں جو کیجیئے تو آپ ہیں عزیزاے قوم کاہلی ہے تری گھر کی اب کنیزاچھی بری کا جب تو نہیں امتیاز ہےبے مائیگی پر اپنی فقط تجھ کو ناز ہےہشیار کوئی لاکھ کرے تو ہے بے خبراس درجہ بے حیا کہ نہیں دل پہ کچھ اثرنازاں ہیں صرف باپ کے دادا کے نام پرقرضے میں ہو رہی ہے مگر زندگی بسردیکھو تو غیر ہنستے ہیں ہشیار ہو ذراللہ اب تو خواب سے بیدار ہو ذراپھولو پھلو الٰہی رہو شاد سر بسرہو نخل اتحاد ہمیشہ یہ باروروہ دن خدا دکھائے کہ لے آئے یہ ثمرآنا ہے تم کو منزل مقصود تک اگرڈالی ہے اتحاد کی تم نے جو داغ بیلہمت نہ ہارو جان کے بچوں کا ایک کھیلدیکھو تو اور قوموں میں کیا اتحاد ہےدولت سے اور علم سے ہر ایک شاد ہےتم میں بھی آج ایسا کوئی خوش نہاد ہےمحمود کا یہ قول ہمیں اب تو یاد ہےدو دن رہے جو آ کے جہاں میں تو کھل گئےآخر کو مثل خار چمن سے نکل گئےاے ساکنان موضع جگور السلامدنیا ہے آج تم کو ہر اک بات کا پیاماب تو نکالو اپنی دلوں سے خیال خاماچھا نہیں جو غیر کے بن جاؤ تم غلاماچھی نصیحتوں پہ عمل پھر ضرور ہےکوئی نہ یہ کہے کہ سراسر قصور ہےاپنے امور میں نہ کرو غیر کو شریکشر کو نہ ڈھونڈھو اور کرو خیر کو شریکاچھے نہیں سفر جو کریں سیر کو شریککعبہ کے ذکر میں نہ کرو دیر کو شریکتم خود رہے ہو صاحب اقبال دہر میںکیوں ڈھونڈتے ہو ذائقہ شہد زہر میںاخلاق کا چراغ بجھانا نہ چاہئےظلمت کدہ میں غیر کے جانا نہ چاہئےسچی نصیحتوں کو بھلانا نہ چاہئےتم کو کسی فریب میں آنا نہ چاہئےاللہ کے بھروسہ پہ ہر کام تم کرودشمن بھی جس کو مان لیں وہ نام تم کرو
دکھلائیں کس مزے سے اب کے بہار ہولیکھیلے ہیں سب جمع ہو کیا گلعذار ہولی
خلوت غم کے دریچوں پہ یہ دستک کیسیاے مری فخر وفا رشک چمن جان حیادامن چشم میں ہے نامۂ الفت جب سےدل کا ہر سویا ہوا زخم مرا جاگ اٹھا
آنے والا ہے بہت جلد ایک ایسا عہد بھیدہر کے حالات موجود فنا ہو جائیں گےاور ہی ہو جائیں گے کچھ یہ زمین و آسماںاور ہی کچھ روز و شب صبح و مسا ہو جائیں گےرفعتوں پر ہر طرف چھا جائے گا ضعف و جمودعرش والے مائل تحت الثریٰ ہو جائیں گےپستیاں کر لیں گی طے سارے مقامات فرازخاک کے ذرے ثریا تک رسا ہو جائیں گےعظمت و ذلت کا سارا امتیاز اٹھ جائے گاایک منزل میں شہنشاہ و گدا ہو جائیں گےخاک میں مل جائے گا سرمایہ داروں کا غروراہل نخوت راہئ ملک فنا ہو جائیں گےفقر و فاقہ کی جگہ لے لیں گے اطمینان و عیشمفلس و مزدور آزاد بلا ہو جائیں گےصفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا نام ظلم و جبراہل استبداد سب بے دست و پا جائیں گےحاکم و محکوم میں باقی نہ ہوگا کوئی فرقایک اہل تخت و اہل بوریا ہو جائیں گےمنہدم ہو جائے گا دیوار زنداں خودبخوداہل زنداں قید محنت سے رہا ہو جائیں گےٹوٹ جائیں گی قفس کی تیلیاں اک آن میںچہچہوں سے بوستاں رنگیں نوا جو جائیں گے
ایک ایسے سروے کے مطابقجو میرے دوستاپنے دل کو موصول ہونے والیغیر ضروری خبروں کو جمع کر کےمرتب کر رہے ہیںشہر میں کوئی خودکشی نہیں کر رہامحبت میں ناکامی پر فینائل پینے والی لڑکیاںاور نوکری نہ ملنے پربڑے بھائی کے لائسنس یافتہ پستول سےخودکشی کرنے والے لڑکےبہت دن سے نظر نہیں آئےدوپٹے کا پھندا بنا کر مر جانے والیبے اولاد دلہنیںاور طویل بیماری سے تنگ آ کرخود کو جلا کر ہلاک کرنے والےادھیڑ عمر مریضناپید ہو گئے ہیںشہر میں اب جس کو بھی خودکشی کرنی ہواسے بہت زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتیوہ باہر نکلتا ہےاور تھوڑی دیر کے لیےنشانہ بازوں والی یلو کیب کاانتظار کرتا ہےیا جب اس کی سڑک کے دونوں طرفخوب فائرنگ ہو رہی ہووہ بلا ارادہ بالکنی میں جا کے کھڑا ہو جاتا ہےجب لوگ خودکشی کرنا چاہتے ہیںیقین کیجئےکسی جنسی امتیاز کے بغیررنگ، نسل اور زبان کے فرق کو خاطر میں نہ لاتے ہوئےگولیاں ہر جگہانہیں ڈھونڈھ نکالتی ہیں
نہ حرام و حلال کی تفریقاور نہ کچھ امتیاز نیک و بدکچھ جو ہوتا تو پیٹ بھرنا ہیزندگی کا عظیم تر مقصد
میری پیدائش پرقرض خواہوں نے جشن منایامجھےپی ایل 480 کے دانۂ گندم سے بپتسمہ دیا گیااورامداد میں ملنے والے خشک دودھ سے میری پرورش کی گئیمجھےپولیو کی جعلی قطرے پلائے گئےاورکاندھے پر جاں نشینی کی چادر ڈال کرمجھےبوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کا کفیل مقرر کیا گیاابمیں ورلڈ بینک کا محبوباورآئی ایم ایف کا شہزادہ ہوںایشین ڈولپمنٹ بینکمیری دستار بندی کے لیے بیتاب ہےیو ایس ایڈ والےمجھے اپنا روزی رساں سمجھتے ہیںمیں مقروض پیدا ہوا تھااور مقروض ہی مروں گامیری ڈیوٹیاب فقط چھ سات مقروض پیدا کرناتاکہاس صارف معاشرے میں اپنا تشخص برقرار رکھ سکوںمجھےان پڑھ ہونے کی سند امتیاز عطا کی گئیتاکہ میںاپنے حقوق کی یاد داشت تحریر نہ کر سکوںمجھےانتخابات کے دن چھٹی بھی نہ دی گئیتاکہمیںاپنا ووٹ اپنی تقدیر کے حق میں نہ ڈال سکوں
امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیںمرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیںوہ میری حسرتیں وہ آرزوئیں وہ تمنائیںجو بر آئیں تو دنیا کے جہنم سرد ہو جائیںیقیں ہوتا ہے دل کو جادۂ حق سے گزرنا ہےمجھے مستقبل انسانیت تعمیر کرنا ہےاٹھوں اٹھ کر نظام محفل ہستی بدل ڈالوںبڑھوں بڑھ کر بدی کی قوتوں کا سر کچل ڈالوںسراپا سوز ہو کر گرم کر دوں قلب ہستی کوتپش اندوزیوں کا درس دوں سکان پستی کوضمیر و فکر انسانی کی آزادی کا خواہاں ہوںمیں نسل و رنگ و خوں کے امتیازوں سے گریزاں ہوںیہ بزم رنگ و بو محروم رنگ و بو نہ ہو جائےمجھے ڈر ہے کہ یہ دنیا مقام ہو نہ ہو جائےسمیٹوں مرکز انسانیت پر ظلم برہم کوسکھاؤں احترام زندگی اولاد آدم کووقار آدمیت سے خرد کو آشنا کر دوںگزار عشق سے آئینۂ دل کی جلا کر دوںحقیقت آشنائے ذوق کر دوں کج نگاہوں کوجگہ دیں نیکیوں میں یہ مرے رنگیں گناہوں کومٹا کر امتیاز نیک و بد سب ایک ہو جائیںخدا بھی ایک ہے بندے بھی اس کے ایک ہو جائیںنہ گلچیں ہو نہ صیاد ستم راں کی ستم رانینہ گل کی چاک دامانی نہ غنچوں کی پریشانینہ طوفاں ہو نہ طوفاں میں غریبوں کا جہاز آئےخدایا ہم فریب کشتی و ساحل سے باز آئےیہ میری حسرتیں یہ آرزوئیں یہ تمنائیںجو بر آئیں تو دنیا کے جہنم سرد ہو جائیںمری خاموش راتوں میں بھی اک ہلچل سی رہتی ہےدعا کرتا ہوں میں انسانیت آمین کہتی ہے
اگر کوئی خدا ہےتو یقیناًپوری دنیا خدا کا ملک ہےاس ملک میںیقیناًسب اول درجے کے شہری ہیںخدا کی شان یہ ہے کہوہ کسی میں تمیز نہیں کرتابلا امتیازہر مذہب اور نظریے کے لوگوں کوپیدا کرتا ہےاور رزق دیتا ہےیقیناًخدا سیکولر ہے
معلوم ہے تمول و غربت کی کشمکشآنکھوں سے امتیاز نظر دیکھتا نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books