aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rukhsaar-e-tar"
اک نئی صبح درخشاں کا روپہلا آنچلاپنے ہم راہ لئے عزم جواں کی تنویرساقیٔ وقت کے رخسار پہ لہرایا ہےیہ ہے تاریک فضاؤں میں اجالے کی لکیر
یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیںذہن شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیالیا سحر کے سیم گوں رخسار پر پہلی کرنسرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال
باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدارنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے
رخسار جہاں تاب کی پڑتی تھیں شعاعیںیا حسن کے دریا سے کوئی موج رواں تھی
عروس فطرت کے ریشمیں پیرہن کا یہ آتشیں تبسمضیائے خاموش کے سکوت آشنا ترنم میں گھل رہا ہےکہ عقدۂ گیسوئے شب تار کھل رہا ہے
واقف اٹلانٹک تھی بے نیاز خشک و ترمیں نے اسٹیٹس کی خاطر کر تو لی شادی مگر
قصر توحید کا اک برج منور تو ہےگلشن حق کے لئے بوئے گل تر تو ہے
دیکھ کر سرخئ رخسار گلستاں گلچیںاپنے دستور میں ترمیم کیے جاتا ہےمتنبہ بھی کیے جاتا ہے ہر پتے کونام بھی فصل بہاراں کا لیے جاتا ہے
خوشا نظارۂ رخسار یار کی ساعتخوشا قرار دل بے قرار کا موسم
یہ گھر جل کر گرے گاان پرندوں سے کہو دہلیز سے آگے نکل جائیںخداۓ خشک و تر کی سلطنت اک گھر نہیں ہےاور موسم ہیں حوادث کےابھی بارش بھی ہوگی
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہمخوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سےسرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہمویرانی حیات کو ویران تر کریںلے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہمپھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کیدل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہمسلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوالواں جائیں یا نہ جائیں نہ جائیں کہ جائیں ہمپھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیںاور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہمآؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشقاب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
غم کے باعث ہوا جب مثل شب تار دماغدل میں اور عقل میں برپا ہوئی جنگ و تکرارلہریں لینے لگا جس وقت تمنا کا چراغیاس کا دیو جب آ کر ہوا سینے پہ سوار
یہ شب تار جاوداں تو نہیںیہ شب تار جانے والی ہے
اب تو بس کر اے چشم ترکب تک ساتھ نبھائے بدرا
روشنی اوڑھ کے ظلمت کا کفن آئی ہےخون میں ڈوب کے سورج کی کرن آئی ہےزخم جاں بن کے صبا سوئے چمن آئی ہےلب و رخسار تمنا پہ نکھار آ نا سکااہل دل کو سر منزل بھی قرار آ نہ سکا
شب تار میں جیسے مہتاب چھوٹیتجلی کے پردے سے پھوٹی وہ پھوٹی
پھر بجھا دیپ کوئی پلکوں پرپھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
زندگی ایک شب تار بھی ہےزندگی مطلع انوار بھی ہے
تیرہ و تار فضاؤں میں ستم خوردہ بشراور کچھ دیر اجالے کے لئے ترسے گا
دیار برگ رعنا سےگزرتا ہوںتو مجھ کو خوف آتا ہےدم لمس پریشاں سےصدائے دیدۂ تر سےمیں اس کے رنگ کوخوشبو کو اس کی نغمگی کوحادثہ مجروح و داماندہ نہ کر ڈالو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books