aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sarak"
''مفت'' سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگاور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ
پچھلا تو سارا راستہ سیدھا ہی تھاتمہاری زبان
چھلک رہے ہیں سمندر سرک رہے ہیں پہاڑلہو پکار رہا ہے لہو پکارے گا
نومبر کی زرد رو دھوپاس کی میز پر سرک آئی ہے
یہ سرک رہی ہے مچان کیوںیہ کھسک رہے ہیں مکان کیوں
صاف شفاف تپاں راکھ کی چادرہولے ہولے مرے جذبات کے سر تک سرک آئے
خوں پتھر پہ سرک آیاگہرا نیلا رنگ ہوا میں ڈوب گیا
ہر سال ان صبحوں کے سفر میں اک دن ایسا بھی آتا ہےجب پل بھر کو ذرا سرک جاتے ہیں میری کھڑکی کے آگے سے گھومتے گھومتے
انہی یادوں سے مری روح جلی جاتی ہےکتنی تاریکیاں چپ چاپ سرک آئی ہیں
یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلےسرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیں
مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہےسرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے
جس طرح اک عروس نو کا کہیںرخ سے آنچل کبھی سرک جائے
خود غرضی کے ناگ سرک رہے ہیںدیکھیں میں ڈسا جاتا ہوں کب
وہ دن کلینڈر کی سبز تہ سے سرک گیا ہےایاز چپ ہے
نسیم صبح باغ میں گلاب کو تھپک گئینگار شاخسار کی نقاب رخ سرک گئی
عمر شاید کسی زندگی سے کسی موت تک کا بھیانک سفر ہے جو ایک ہی زمان و مکاں میں ٹھہر کر ہی کٹ جائے گااس میں اپنی جگہ مطمئن رہ سکو تو یہ رستہ بھی پیروں کے نیچے سے خود ہی سرک جائے گا
ریشمی سبز رنگ کی ساڑیجو سرک آئی سر سے کندھوں پر
سرک رہی ہیں
سرک کر ہوا کے ساتھ مل کرملک کی حدود کو وسیع کرنے لگ گیا
اٹھا رہا ہے سوئے آسماں وہ تنہا شاخسرک رہی ہے ابھی جس میں زندگی کی نمی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books