aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tabalo.n"
مگر سب کی نظریںسجی ٹیبلوں پر جمی تھیں
نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیںوہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں
پڑھنے والوں کے ناموہ جو اصحاب طبل و علم
ہاں میرے خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہےان صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیااپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں
ہر صدا ناگوار ہوتی ہےان سکوت آشنا ترانوں میں
یہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحری
ہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدا
مری سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہےکہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کو
مردہ طبیعتوں کی افسردگی مٹا دےاٹھتے ہوئے شرارے اس راکھ سے دکھا دے
فضائیں گونجتی ہیں اب بھی ان وحشی ترانوں سےسنو آواز سی آتی ہے ان خاکی چٹانوں سے
لطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے
وہ ترانے جو سنا کرتا ہوں تنہائی میںان ترانوں میں مجھے بوئے وفا آتی ہے
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کاملک کا ملک اور پارے کا پارا
طبلوں کے ٹھکے طبل یہ سازوں کے بجے تارراگوں کے کہیں غل کہیں ناچوں کے بندھے تار
کتنا گہرا ہے محبت کے تقاضوں کا تضادمیں تو کہتا ہوں کہ تم پیار سے جھولی بھر دو
جن تقاضوں نے اس کو دیا تھا جنمان کی آغوش میں پھر سمایا نہ وہ
اپنی یک طرفہ سیاست کے تقاضوں کے طفیلایک بار اور تجھے نوحہ کناں چھوڑ گئے
میرے ماتھے کا عرق ڈھلتا ہے ٹکسالوں میںپر مری جیب مرے ہاتھ سے شرمائی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books