ADVERTISEMENT

پروانہ پر اشعار

پان ہندوستانی تہذیب

کا ایک اہم حصہ رہا ہے ۔ اس کے کھانے اور کھلانے سے سماجی زندگی میں میل جول اور یگانگت کی قدریں وابستہ ہیں لیکن شاعروں نے پان کو اور بھی کئی جہتوں سے برتا ہے ۔ پان کی لالی اور اس کی سرخی ایک سطح پر عاشق کے خون کا استعارہ بھی ہے ۔ معشوق کا منھ جو پان سے لال رہتا ہے وہ دراصل عاشق کے خون سے رنگین ہے ۔ شاعرانہ تخیل کے پیدا کئے ہوئے ان مضامین کا لطف لیجئے ۔

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں

اسعد بدایونی

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو

جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

جلیل مانک پوری

تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گا

شمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گا

بہادر شاہ ظفر

پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا

گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں

شاد عظیم آبادی
ADVERTISEMENT

مثل پروانہ فدا ہر ایک کا دل ہو گیا

یار جس محفل میں بیٹھا شمع محفل ہو گیا

جلیل مانک پوری

جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے

پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی

علیم مسرور

خود ہی پروانے جل گئے ورنہ

شمع جلتی ہے روشنی کے لیے

صنم پرتاپ گڑھی

یوں تو جل بجھنے میں دونوں ہیں برابر لیکن

وہ کہاں شمع میں جو آگ ہے پروانے میں

جلیل مانک پوری
ADVERTISEMENT

مت کرو شمع کوں بد نام جلاتی وہ نہیں

آپ سیں شوق پتنگوں کو ہے جل جانے کا

سراج اورنگ آبادی

شمع پر خون کا الزام ہو ثابت کیوں کر

پھونک دی لاش بھی کمبخت نے پروانے کی

جلیل مانک پوری

خود بھی جلتی ہے اگر اس کو جلاتی ہے یہ

کم کسی طرح نہیں شمع بھی پروانے سے

نامعلوم

یہ اپنے دل کی لگی کو بجھانے آتے ہیں

پرائی آگ میں جلتے نہیں ہیں پروانے

مخمور سعیدی
ADVERTISEMENT

پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق

محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

ماہر القادری

پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں

کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا

اسماعیل میرٹھی

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے

پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

آغا حجو شرف

عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھ

وصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہے

جعفر علی خاں ذکی
ADVERTISEMENT

شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا

یادگار‌ حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا

عزیز لکھنوی

تاریکی میں ہوتا ہے اسے وصل میسر

پروانہ کہاں جائے شبستاں سے نکل کر

مصحفی غلام ہمدانی

خاک کر دیوے جلا کر پہلے پھر ٹسوے بہائے

شمع مجلس میں بڑی دل سوز پروانے کی ہے

شیخ ظہور الدین حاتم