ADVERTISEMENT

قبر پر شعر

قبر کی تنگی، تاریکی

اور اس سے وابستہ بہت سے بھیانک اور تکلیف دہ تصورات کو شاعری میں خوب برتا گیا ہے ۔ یہ اشعار زندگی میں رک کر سوچنے اور اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور زندگی کی حقیقتوں پر غور کیجئے ۔

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ

اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم

قمر جلالوی
ADVERTISEMENT

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں

میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

منیر نیازی

چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا

یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا

بشیر الدین احمد دہلوی