رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
-
موضوع : آواز
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
غالبؔ یہاں مایوسی کے بجائے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدائی اٹل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہونے کا کوئی غم نہیں، کیونکہ اگر عمر لمبی بھی ہوتی تو وصال تو پھر بھی نہ ہوتا، بس انتظار کی اذیت طویل ہو جاتی۔ گویا موت نے انہیں طویل انتظار کے کرب سے بچا لیا۔
-
موضوعات : انتظاراور 3 مزید
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر دعا اور محبت سے بھرا ہوا ہے جس میں مبالغے کے ذریعے وقت کو پھیلا دیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کی زندگی دراز ہی نہیں، حد سے زیادہ طویل اور بھرپور دیکھنا چاہتا ہے، اس لیے سال کے دن بھی بڑھا کر کہتا ہے۔ “پچاس ہزار دن” کا مطلب حقیقت نہیں بلکہ آرزو کی شدت ہے۔ جذبے کا مرکز نرمی، خیرخواہی اور جدائی کے خوف کو مات دینا ہے۔
محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی
علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے
محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے
-
موضوعات : روماناور 4 مزید
مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں
-
موضوع : جدائی
سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں
مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی
-
موضوع : تصویر
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں
رو پا رہے ہیں آپ بدھائی ہے روئیے
جیسی اب ہے ایسی حالت میں نہیں رہ سکتا
میں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتا
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
EXPLANATION #1
اس شعر کو اکثر شارحین اور ناقدین نے ترقی پسند فکر کے آئینے میں دیکھا ہے۔ ان کی نظر میں ’’تم‘‘ انقلاب ، شبِ انتظار کشمکش اور استحصال اور تلاش جستجو کی علامت ہے۔ اس اعتبار سے شعر کا مضمون یہ بنتا ہے کہ انقلاب کے کوشاں لوگوں نے استحصالی عناصر کے خلاف ہر چند کی بہت سعی کی مگر ہر دور اپنے ساتھ نئے استحصالی عناصر کو لاتا ہے۔ مگر چونکہ فیض نے اپنی شاعری میں اردو شاعری کی رویت سے بغاوت نہیں کی اور روایتی تلازمات کو ہی برتا ہے اس لئے اس شعر کو اگر ترقی پسند سوچ کے دائرے سے نکال کر بھی دیکھاجائے تو اس میں ایک عاشق اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ نہ تم آئے اور نہ انتظار کی رات گزری۔ اگرچہ دستور یہ ہے کہ ہر رات کی صبح ہوتی ہے مگر صبح کے بار بار آنے کے باوجود انتظار کی رات ختم نہیں ہوئی۔
شفق سوپوری
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ ظاہر ہونا میری عادت نہیں، مجھے تو میرے شوق نے پردے سے باہر لا کھڑا کیا۔ یہاں پردہ پوشیدگی اور حیا کی علامت ہے، اور “خلوتیٔ رازِ نہاں” باطنی، رازدار طبیعت کی طرف اشارہ ہے۔ جذبے کی شدت انسان کو اپنی اصل فطرت کے خلاف بھی کھول دیتی ہے۔
-
موضوع : تصوف
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ زندگی کی ہر سانس کے ساتھ غم بھی جڑا رہا، یعنی دکھ نے کبھی ساتھ نہ چھوڑا۔ “دل کے جانے” سے مراد دل کا ٹوٹ جانا یا اندرونی زندگی اور محبت کا رخصت ہو جانا ہے۔ اس جدائی نے غم کو انتہا تک پہنچا دیا۔ یوں یہ شعر مسلسل اور ہمہ گیر اداسی کی تصویر بن جاتا ہے۔
جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا
-
موضوع : وفا
وہ اب بھی دل دکھا دیتا ہے میرا
وہ میرا دوست ہے دشمن نہیں ہے
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو
-
موضوع : میر تقی میر
بس محبت بس محبت بس محبت جان من
باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے
-
موضوع : ہزار داستان عشق
رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر
صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم
-
موضوعات : سمندراور 1 مزید
حالت حال سے بیگانہ بنا رکھا ہے
خود کو ماضی کا نہاں خانہ بنا رکھا ہے
پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف
ناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا
میری کوشش تو یہی ہے کہ یہ معصوم رہے
اور دل ہے کہ سمجھ دار ہوا جاتا ہے
جانے کیا کچھ ہو چھپا تم میں محبت کے سوا
ہم تسلی کے لئے پھر سے کھگالیں گے تمہیں
چلو اتنی تو آسانی رہے گی
ملیں گے اور پریشانی رہے گی