Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بیوفا شاعری

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

بشیر بدر

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی مجبوری کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ پھر سے اسی محبوب پر فدا ہو رہا ہے جو وفا نہیں کرتا۔ اس عمل سے اس کی زندگی اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی ہے جس میں انتظار، تڑپ اور عشق کی آزمائشیں شامل تھیں۔ یہ شعر عشق کے نہ ختم ہونے والے سلسلے اور عاشق کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں وہ درد کے سوا کچھ نہیں پاتا۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی مجبوری کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ پھر سے اسی محبوب پر فدا ہو رہا ہے جو وفا نہیں کرتا۔ اس عمل سے اس کی زندگی اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی ہے جس میں انتظار، تڑپ اور عشق کی آزمائشیں شامل تھیں۔ یہ شعر عشق کے نہ ختم ہونے والے سلسلے اور عاشق کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں وہ درد کے سوا کچھ نہیں پاتا۔

مرزا غالب

کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک

جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ

احمد فراز

لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر

احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

احمد فراز

آشنا بے وفا نہیں ہوتا

بے وفا آشنا نہیں ہوتا

میر حسن

جو ملا اس نے بے وفائی کی

کچھ عجب رنگ ہے زمانے کا

مصحفی غلام ہمدانی

بے مروت ہو بے وفا ہو تم

اپنے مطلب کے آشنا ہو تم

واجد علی شاہ اختر

پھر کسی بے وفا کی یاد آئی

پھر کسی نے لیا وفا کا نام

ساحر ہوشیار پوری

ہم نے عالم سے بے وفائی کی

ایک معشوق بے وفا کے لیے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

ابھی سے کیسے کہوں تم کو بے وفا صاحب

ابھی تو اپنے سفر کی ہے ابتدا صاحب

اندرا ورما
بولیے