بیوفا شاعری
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے — یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے — یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی مجبوری کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ پھر سے اسی محبوب پر فدا ہو رہا ہے جو وفا نہیں کرتا۔ اس عمل سے اس کی زندگی اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی ہے جس میں انتظار، تڑپ اور عشق کی آزمائشیں شامل تھیں۔ یہ شعر عشق کے نہ ختم ہونے والے سلسلے اور عاشق کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں وہ درد کے سوا کچھ نہیں پاتا۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی مجبوری کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ پھر سے اسی محبوب پر فدا ہو رہا ہے جو وفا نہیں کرتا۔ اس عمل سے اس کی زندگی اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی ہے جس میں انتظار، تڑپ اور عشق کی آزمائشیں شامل تھیں۔ یہ شعر عشق کے نہ ختم ہونے والے سلسلے اور عاشق کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں وہ درد کے سوا کچھ نہیں پاتا۔
-
موضوع : محبوب
-
موضوع : لفظی الٹ پھیر